Showing posts with label Articles. Show all posts
Showing posts with label Articles. Show all posts

Saturday, 23 May 2015

X Spinner Software Free Download

Get X Spinner computer code Free. X Spinner is that the Best Spinner to Spin Your Content. X-Spinner supports all third-party computer code and permits you to spin unlimited articles with blazing speed, higher results and a cheaper price. And you'll be able to even run X-Spinner on a server to supply your own spinning service or integrate it together with your computer code.

Demo & source
http://www.x-spinner.com/



X Spinner Free Download

 Password: blackhatload

0

Thursday, 21 May 2015

135383 PLR Articles Free Download

PLR stands for personal Label Rights. PLR articles ar a comparatively new twist on content building. personal label rights ar a special style of right or license that you get wherever you're de jure allowed to edit and publish the article as your own. you'll even embody your own name because the author and your own resource box at the tip of every article. PLR articles ar a comparatively cheap thanks to manufacture content for a diary. Any blogger United Nations agency has been at this for a short time is aware of that keeping a gradual flow of content isn't a simple issue to try and do. PLR articles will facilitate to stay that flow going once you run into a amount of writer’s block.

The biggest advantage of PLR articles ar their prices. They’re pretty low-cost. whereas freelance writers like Michael Kwan charge Associate in Nursing arm and a leg to write down one article, you'll be able to get PLR articles for as low as fifteen cents every. However, don’t expect PLR articles to place Kwan out of business. there's a large quality distinction between articles made by an expert and one written for personal label rights. Another issue to stay in mind is most PLR resellers can sell their articles to anyone and everybody. This brings up the problem of content duplication and worst, seeing an equivalent articles “written” by many alternative individuals.

Deb Schwabe is that the owner of get PLR Articles. I initial met woman in metropolis once I was a speaker for IZEA Fest 2008. woman was a part of the mum blogger team that won the IZEA scavenger hunt. woman claims her PLR article service is exclusive as a result of she limits the quantity of licenses she sells to fifty thus it’s somewhat exclusive. She additionally claims the standard of her articles ar way superior to different PLR services. additionally to PLR articles, woman additionally provide PLR eBooks with master sell rights. Here’s a sample of a PLR article on Link Building.

PLR Articles Pack Folder Screenshots

 






PLR Articles Pack Download Link:

PLR Articles Download

0

Saturday, 9 May 2015

تحریک انصاف کی پارلیمنٹ میں واپسی !! Tehrik e insaf ki parliament me wapsi


.....جویریہ صدیق.....

پی ٹی آئی نے سات ماہ سے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کررکھا تھا،126دن تک طویل دھرنا دیا ۔ہر روز پارلیمنٹ کے سامنے پارلیمنٹ کو جعلی اور بوگس قرار دیا جاتا رہا،کبھی ایمپائر کی انگلی ، کبھی اوئے اوئےتو کبھی استعفے ، کبھی دھواں دار تقاریر ، تو کبھی سول نافرمانی کی کال تو کبھی الزامات کی بوچھاڑ تو کبھی چار حلقے،تحریک انصاف نے تمام ہی جماعتوں کے قائدین کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔پھر بھی حکومت اور دیگر جماعتیں روٹھے ہوئوں کو منانے میں لگی رہیں اور یہ کفر 6اپریل کو ٹوٹا جب یمن کی صورتحال کے لیے بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پی ٹی آئی نے واپس اسمبلی میں آنے کا فیصلہ کرلیا۔خوش و خرم پی ٹی آئی کے ارکان جس وقت اسمبلی میں داخل ہوئے تو ایم کیو ایم ،جمعیت علمائے اسلام ف ، اے این پی اور مسلم لیگ ن کے ارکان نے خوب احتجاج کیا اور یہ سوال اٹھایا کہ تحریک انصاف کے ارکان کس حیثیت میں اسمبلی میں واپس آئے ہیں۔ظاہر سی بات سات ماہ تحریک انصاف نے بھی تو کم نشتر نا برسائے تھے ان سب جماعتوں پر اس ہی لیے اراکین اسمبلی نے موقع اچھا جانا اور اسمبلی ہال’’ گو عمران گو‘‘،پی ٹی آئی یو ٹرن لے کر آئی، معافی مانگو کے نعروں سے گونج اٹھا۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی بار بار درخواست کے بعد کچھ دیر تو ایوان میں خاموشی تو ہوئی لیکن پہلا سیشن یمن کے بجائے پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفوں پر بحث کی نظر ہوگیا۔ ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے کہا کہ پارلیمنٹ کا آج کا اجلاس غیر قانونی ہے جو رکن چالیس دن تک غیر حاضر رہے وہ مستعفی ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل کی شق 64 ون اور ٹو واضح ہے اس لیے تحریک انصاف کو واپس آنے کی اجازت دینا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ایوان کے باہر ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ استعفے تین طلاقوں کی طرح ہے اس لیے نامحرموں کا اسمبلی میں کیا کام۔

اے این پی نے بھی تحریک انصاف کو آڑے ہاتھوں لیا اور سینٹر زاہد خان نے کہا عمران خان کو یہ معلوم ہی نہیں کے وہ کیا کررہے ہیں اب ان کے پاس کیاجواز ہے اس اسمبلی میں آنے کا، جس اسمبلی کو وہ جعلی اور بوگس قرار دے چکے ہیں، تاہم اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے معاملے کو رفع دفع کرواتے ہوئے کہا کہ لڑائی کو لڑائی نہیں بلکہ بات چیت سے ختم کیا جائے۔تحریک انصاف کا واپس پارلیمنٹ آنا خوش آئند ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے بھی خوب پی ٹی آئی کی کلاس لی اور کہا کہ آج پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ کو ایوان میں اجنبی تصور کیا جائے، آئین کے تحت استعفیٰ دینے والے خود بخود مستعفی ہوجاتے ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی جب ایوان کا ماحول گرم دیکھا تو وہ بھی یمن کو بھول کر پی ٹی آئی کی کلاس لینے لگے اور کہا اسمبلیوں کو جعلی کہنے والے آج کس منہ کے ساتھ اسمبلی میں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا پی ٹی آئی والے شرم کریں اور حیا کریں،تاہم بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا حکومت خود پی ٹی آئی کو ایوان میں لائی ہے تو اب احتجاج کیوں ؟ حکومت کا لہجہ تلخ نہیں ہونا چاہیے۔ اس سب صورتحال کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت وزیر دفاع اور ایم کیو ایم کو خوب کھر ی کھری سنائیں اور کہا جوڈیشل کمیشن اصولی موقف تھا اور الیکشن میں دھاندلی ہوئی میں اب بھی اپنے موقف پر قائم ہوں ۔انہوں نے کہا کہ کیا میاں نوازشریف کو پتہ نہیں تھا کہ ان کے وزیر نے کیا بولنا ہے، ان کی موجودگی میں وزیر نے کس طرح کی زبان استعمال کی ایسی زبان تو کوئی تلنگا بھی نہیں استعمال کرتا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کے ہم پارلیمنٹ قومی معاملات پر بات کرنے آئے ہیں جبکہ وزیر دفاع نے ذاتی معاملات کو ترجیح دی۔

تاہم اس تمام کشیدہ صورتحال میں اسپیکر نے صورتحال کو بخوبی سنبھالنے کی کوشش کرتے رہے انہوں نے رولنگ دی کے تحریک انصاف کی پارلیمنٹ واپسی آئین کی خلاف ورزی نہیں آئین کی شق64 کے ساتھ سپریم کورٹ کا آڈر بھی پڑھا جائے۔سپریم کورٹ کے مطابق اسپیکر فیصلہ کرنے کا مجاز ہے کہ کون مستعفی ہورہا ہے اور کون نہیں ۔ ایاز صادق نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی جانب سے کوئی بھی اپنے استعفے کی تصدیق کے لیے نہیں آیا اس لیے استعفے منظور نہیں ہوئےلیکن جاوید ہاشمی اپنے استعفے کی تصدیق خود کرواگئے جو منظور ہوگیا تھا۔

استعفوں کا معاملہ اسمبلی کے فلور اور گیٹ نمبر ون تک محدود نہیں رہا بلکہ ن لیگ کے رہنما سید ظفر علی شاہ نے تحریک انصاف کے ارکان کی پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔ ظفر علی شاہ نے اس درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان سات ماہ قبل استعفا دے چکے ہیں اور آئین کی شق چونسٹھ ون اے اور ٹو اے کے مطابق جو رکن رضا کارانہ طور پر استعفیٰ دے اور چالیس دن مستقل غیر حاضر رہے تو اس کے بعد نشت خالی قرار دے دی جاتی ہے ۔ظفر علی شاہ نے کہا مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ سات مہینے تک بھی اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق ان استعفوں کی تصدیق نا کرسکے حالانکہ استعفے رضاکارانہ طور پر دئیے گئے تھے، یہ بات پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی میں بیٹھنے کا آئینی جواز کھو چکے ہیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر شعیب رازق نے کہا یہ معاملہ اسپیکر اور ارکان کے درمیان تھا ارکان نے استعفیٰ دیا اور اسپیکر نے قبول نہیں کیا اس لیے اب جوڈیشل کے قیام کے بعد تحریک انصاف کا حق ہے کہ وہ اسمبلی واپس جاسکتے ہیں کیونکہ ان کے استعفے قبول نہیں کئے گئے۔

اگر پہلے ہی پی ٹی آئی جمہوری دائرے سے باہر نا جاتی تو آج پارلیمان واپسی پر مشکل اور خفت کا سامنا نا کرنا پڑتا مسائل کا حل اگر سڑکوں کے بجائے ایوان میں مذاکرات اور قانون سازی کرکے نکالا جاتا توآج ایوان میں اجنبیت کا احساس نا ہوتا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حالات کس طرف کروٹ لیتے ہیں اور استعفوں کا معاملہ کہاں تک جائے گا اور تحریک انصاف کتنی سنجیدگی کے ساتھ معاملات کو طے کرتی ہے۔گرجنے برسنے سے کچھ حاصل نہیںہوگا، معاملات کا حل صرف افہام و تفیہم سے ہی نکل سکتا ہے۔اب بہت ہوئے پرانے گلے شکوے کچھ مستقبل کی طرف پر بھی پیش قدمی ہو۔ 

ٹائیگرز کی اب تک صرف ایک کامیابی Tigers ki abtak sirf ak kamyabi

.....محمدفرقان بھٹی.....
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے خلاف کرکٹ سیریز کے لیے مکمل شیڈول کا کر دیا ہے ۔ شیڈول کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم بنگلا دیش کے خلاف تین ایک روزہ ، ایک T20اور دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کھیلے گی ۔ سیریز کا باقاعدہ آغاز 17 اپریل سے ہو گا جب دونوں ٹیمیں ایک روزہ میچ میں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوگی ,سیریز کے تمام ایک روزہ میچزشیر بنگلہ نیشنل ا سٹیڈیم، میرپور میں ہی کھیلے جائے گے جب کہ واحدT20 میچ بھیشیر بنگلہ نیشنل سٹیڈیم میں ہی کھیلا جائے گا ۔ سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ28 اَپرَیل کو شیخ ابو ناصر اسٹیڈیم، کھلنا ، جب کہ اور آخری ٹیسٹ میچ کھیلے کے لیے دونوں ٹیمیں شیر بنگلہ نیشنل ا سٹیڈیم، میرپورواپس آئیں گی۔ 

اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پہلا ایک روزہ میچ 31 مارچ ، 1986 کو ڈی سویسا اسٹیڈیم، سری لنکاکیمقام پر کھیلا گیا تھا ۔ یہ میچ 1985-1986 جون پلیئر گولڈ لیف ٹرافی کا کا دوسرا میچ تھا جہاں پاکستانی بولرز نے بنگلہ دیش کو 94 کے اسکور پر ڈھیرکر دیا تھا اور آرام سے یہ میچ جیت لیا تھا۔ اِس جیت میں اہم کردارسوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کا تھا جنہوں نے 9 اوورز کے بدلے 19 رنز دیئے اور چار شکار بھی کیے ۔ اِس جیت کے بعد پاکستانی ٹیم کا بنگلہ دیش کے خلاف ا چھا تال سیٹ ہو گیا ، لیکن 1999 کے ورلڈ کپ کے اہم میچ میں ٹیمبنگلہ دیش نے پاکستان کو یک طرفہ میچ میں شکست سے دو چار کر دیا تھااور یہ بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلافکسی بھی فورمیٹ میںاب تک کی واحد کامیابی ہے ۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اب تک 32 ایک روزہ میچز جا چکے ہیں جن میں 31 بار پاکستان جیتا اور صرف ایک بار بنگلہ دیش ٹیم جیت حاصل کر پائی ۔ ایک روزہ میچز میں آخری بار پاکستان 2014 میں بنگلہ دیش کے آمنے سامنے ہو ا تھا جہاں بازی پاکستان نے ہی ماری تھی۔ 

اگر بات کی جائے ٹیسٹ میچز کی تو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان آج تک آٹھ ٹیسٹ میچز کھیلے جا چکے ہیں اور تمام ٹیسٹ میچز میں پاکستان کرکٹ ٹیم ہی جیتنے میں کامیاب ہوئی ۔ آخری بار یہ دونوں ٹیمز 2011 میں ٹیسٹ میچز میں آمنے سامنے آئی تھیں ۔T20 کرکٹ کا ریکارڈ بھی کچھ مختلفنہیں ہے ۔اب تک پاکستان اور بنگلہ دیش سات T20 میچز کھیل چکے ہیں اور ہر بار بازی پاکستان نے ہی ماری ۔ ان تمام ریکارڈز کے مطابق تو پاکستان کرکٹ ٹیم ہی آئندہ سیریز کے لیے مضبوط حریف لگ رہی ہے لیکن یاد رہے اب پاکستان کو ایک نئے کپتان کے ساتھ کے خلاف میدان میں اْترے گی اور بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کی موجودہ فارم بھی اچھی ہی چل رہی ہے ۔ 

این اے246میں سیاسی سرگرمیاں NA 246 main siasi sargarmian


.....فرخ نور قریشی.....
ملک بھر اور خصوصاً کراچی کے شہری اس وقت ایسے thrilled ہیں جیسے کسی ورلڈ کپ میں انڈیا پاکستان کا میچ ہونے جارہا ہو۔

عمران خان کی روایتی کپتانی کی جھلک ہمیں NA 246 کی انتخابی مہم میں بھی نظر آتی ہے۔ پتا ہے کہ میچ جیتنا تقریباً ناممکن ہے لیکن ایڑی چوٹی کا زور نہ صرف کپتان لگا رہا ہے بلکہ کپتان کی ٹیم بھی۔ پی ٹی آئی کے جیتنے کا سوال ابھی اتنا اہم نہیں جتنا کہ یہ سوال کہ رینجرز کی موجودگی میں جہاں انتخابی عمل پر ملک بھر کے میڈیا کی خصوصی نظر ہوگی اور جہاں خاصی امید ہے کہ ووٹنگ بغیر کسی دھاندلی کے نتیجے میں ہو جائے گی ، نتائج کیا ٹھہریں گے؟ 

2013 کے انتخابات میں اسی حلقے سے متحدہ کے امیدوار تقریباً ایک لاکھ ووٹوں کے مارجن سے کامیاب ہوئے تھے۔ یہ مارجن یا اکثریت متحدہ کے لئے ایک threshold یا یوں کہئے کہ ایک زیادہ سے زیادہ حد قرار دی جاسکتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ سیاسی حالات میں جب متحدہ زیر اعتاب ہے اور اس بار نہ صرف اسے ممکنہ طور پر شفافیت کا بھی سامنا ہوگا بلکہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے ممکنہ مشترکہ امیدوار کا مقابلہ بھی کرنا پڑسکتا ہے، ایسے میں ایک لاکھ ووٹوں کا یہ threshold کتنا گرے گا؟ اصل الیکشن ہی یہ ہے۔ اگر یہ برتری ایک لاکھ سے کم ہوکر پچاس ہزار یا اس سے کم پہ آجائےایم کیوایم کیلئےلمحہ ففکریہ ہوگی۔

ویسے ہم عادی ہوچکے ہیں ان ہی نتائج کو سوچنے اور تجزیہ کرنے کے جو ہم تقریباً پچھلے تیس سالوں سے دیکھتے آئے ہیں۔۔۔اور وہ یہ ہے کہ کراچی کے 80 سے 90 فیصد حلقوں میں متحدہ کامیاب ہوتی آئی ہے۔ لہٰذا ہماری سوچ بھی اس تاثر یا چھاپ کی کشش سقل نہیں توڑ پاتی۔

وقت اور حالات بدلتے رہتے ہیں اور جو حالات آج ہیں وہ آج سے پہلے کبھی نہیں تھے۔ متحدہ پر بلاشبہ اس سے پہلے بھی کم و بیش دو بار اسی طرح کا کڑا وقت آیا۔۔۔لیکن متحدہ اسے جھیل گئی۔ کچھ لوگ شاید اب بھی اسی خیال میں ہیں کہ اس طرح کے حالات متحدہ کے لئے نئے نہیں ہیں۔ لیکن ایک چیز واقعتاً نئی ہے جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا ، اور وہ ہے تحریک انصاف کی کراچی میں سیاسی موجودگی۔

اب سے پہلے گذشتہ دہائیوں میں جب بھی متحدہ پہ کڑا وقت آیا تو متحدہ اسے محض اس لئے جھیل گئی کیونکہ کراچی میں بسنے والے اردو اسپیکرز کے پاس متحدہ کے سوا کوئی اور سیاسی آپشن نہیں ہوا کرتا تھا۔کراچی میں کوئی ایسی جماعت نہیں تھی جو ورکنگ کلاس اورمذہبی طور پر معتدل لوگوں کی صحیح معنوں میں ترجمان ہو۔ جماعت اسلامی کا سخت مذہبی نظریہ اور پیپلز پارٹی کی وڈیرا شاہی ، دونوں ہی کراچی کی ایک بہت بڑی ورکنگ کلاس آبادی کے لیئے غیر پرکشش تھے۔ ان کے نظریئے کی حقیقی ترجمان متحدہ ہی تھی جومذہبی طور پر معتدل ہونے کے ساتھ ساتھ میرٹ کی بات کرتی اور وڈیرا شاہی یا جاگیردارانہ کلچر کے خاتمے کے حق میںتھی ، لہٰذا ماضی میں کوئی بھی جماعت متحدہ کے خلاء کو پر کرنے میں ناکام ہی رہی ۔ اور شاید متحدہ کی لیڈرشپ کے ذہنوں میں یہ بات محفوظ تھی کی کراچی کی سیاسی dynamics میں متحدہ کا نظریہ رکھنے والی کوئی اور سیاسی جماعت کا وجود ممکن ہی نہیں۔ 

متحدہ کیلئے مشکل وقت ایک بار پھر آیا ہے لیکن اس بار ایک ایسی جدت کے ساتھ آیا ہے جو متحدہ کے خلاء کو پر کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ تحریک انصاف اور متحدہ کا سیاسی نظریہ اور مؤقف ایک ہی ہے یعنی میرٹ کی بالادستی، وی آئی پی اور وڈیرا کلچر کا خاتمہ وغیرہ وغیرہ، اور دونوں ہی ورکنگ کلاس کے لوگوں کی ترجمان ہیں۔ ایسے میں کرچی کی سیاست میں متحدہ کا تحریک انصاف سے بہتر متبادل اور کیا ہوسکتا ہے۔ اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے تحریک انصاف کی حلقہ NA 246 میں جیت کے امکان کو خارج بھی نہیں کیا جاسکتا۔ 

اس وقت حلقے میں ایک سیاسی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔شدید الزامات اور تنقید کے بعد اچانک پیارومحبت اور بھائی چارے کی پالیسی۔۔۔ایک عجیب سی سیاسی کھچڑی۔

NA 246 میں سیاسی سرگرمی ، عدم برداشت اور تشدد سے شروع ہو ئی جب تحریک انصاف کے سیاسی کیمپ کو اکھاڑا گیا۔ایسے میں تحریک انصاف اسمبلی میں واپس جانے کا فیصلہ کرتی ہے۔

اوراب ہر ٹی وی پہ آنے والا ہر ٹاک شو اکھاڑا بن گیا۔عمران خان کی کراچی آمد پر یوں تو خبریں گرم تھیں کے NA 246 کے حلقے میں تمام ٹماٹر اور انڈے یکایک بک گئے لیکن رات گئے الطاف بھائی نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ عمران خان بھابی جان کے ہمراہ 90 پر تشریف لائیں ، ان پر انڈے اور ٹماٹروں کی بجائے پھول نچھاور کئے جائیں گے اور تحفوں کے ساتھ رخصت کیا جائے گا۔ الطاف حسین عمران خان کو اپنا بھائی اور پورا مہاجر سمجھتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

اس عمل کے بعد امید کی جارہی ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے بھی نیک تمناؤں کا اظہار ہوگا۔۔۔ اور اگر نہ ہوا تو سمجھا جائے گا کہ تحریک انصاف ہی دراصل محاذ آرائی کی سیاست چاہتی ہے۔

لیکن قبل اسکے کہ تحریک انصاف متحدہ کی لیڈرشپ کے اس دوستی اور ہم آہنگی کے پیغام پر کوئی واضح قدم اٹھاتی متحدہ اور تحریک انصاف کے کارکن عمران خان کی جناح گراؤنڈ آمد کے بعد آپس میں الجھ پڑے۔ ہم آہنگی، دوستی اور تلخی کی مصلحانہ پالیسی تو الیکشن کے دن تک بہ وقت ضرورت چلتی رہے گی، لیکن سیاسی طور پر دیکھا جائے تو متحدہ کی پالیسی یہی ہوگی کہ کم از کم لیڈرشپ کی سطح تک ہم آہنگی اور دوستانہ ماحول رکھا جائے ۔۔۔ لیکن کیا یہ دوستی اور ہم آہنگی کی ہوا تحریک انصاف کی سیاسی مہم کے لئے وبا ل تو نہیں بن جائے گی؟ 

اس وقت تحریک انصاف کا ووٹر وہ ہے جو بیشک متحدہ کے سیاسی نظریئے کے ساتھ مطابقت تو رکھتا ہے لیکن موجودہ حالات کے تناظر میں اور قریب تین دہائیوں کے ذاتی تجربے کی بناء پر متحدہ سے بدظن ہے۔ تحریک انصاف کی سیاست اور جیت کا دارومدار ایسے ہی ووٹرز کو mobilize کرنے پر ہے اور ایسا ووٹر قطعی طور پر تحریک انصاف کا متحدہ کے ساتھ بھائی بھائی والے رویے سے تو اجاگر یا mobilize ہوگا نہیں، بلکہ خاموش ہو کرکسی کو ووٹ نہیں ڈالے گا۔ NA 246 کا یہ مقابلہ دراصل متحدہ اور اینٹی متحدہ ووٹرز کے درمیان ہے۔ اور اینٹی متحدہ ووٹرز جنہوں نے تحریک انصاف کو ووٹ ڈالنا ہے، فطری طور پر تحریک انصاف کا متحدہ کی طرف ایک سخت stance کے بعد مروتاً نرم پڑ جانے کو قبول نہیں کرینگے۔ دوسری طرف اتحادی جماعت اسلامی ہے، جس کے ساتھ اس وقت تک یہ طے پانا ہے کہ الیکشن کس کے امیدوار نے لڑنا ہے۔ ظاہر ہے کہ تحریک انصاف یہ چاہے گی کہ انتخاب عمران اسماعیل ہی لڑیں ۔۔۔لیکن متحدہ کے ساتھ دوستانہ رویہ اس اتحاد کو امتحان میں ڈال سکتا ہے اور جماعت اسلامی جو گذشتہ تین دہائیوں سے متحدہ کی حریف رہی ہے اس بات پر بضد ہوسکتی ہے کہ الیکشن انہی کا امیدوار لڑے گا کیونکہ تحریک انصاف متحدہ کو دل دے چکی ہے اور اس بات کو لیکر جماعت کے ووٹرز نالاں ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف ان تمام factors کی موجودگی میں کیا پالیسی اپناتی ہے۔ 

نوجوان کرکٹر سمیع اسلم Nojawan Cricketer Smee Aslam

.....فرقان بھٹی.....
پاکستان کرکٹ ٹیم کی اوپننگ کا مسئلہ ہے کہ حل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ، کبھی مڈل آرڈر بیٹسمین ا وپن کرنے آ جاتا ہے تو کبھی وکٹ کیپر ۔ کیا پاکستان کے پاس ڈومیسٹک کرکٹ میں کوئی پائے کا اوپنر موجود نہیں ؟ شاید اِس کا جواب نہیں ہو گا کیوںکہ پچھلے دو، تین سال میں کافی اوپنر ز کو موقع دیا گیا لیکن سب ہی ا پنی جگہ بنانے میں ناکام ہوگئے جن میںاویس ضیا ، شرجیل خان ، ناصر جمشید ، توفیق عمر اور شان مسعود وغیرہ شامل ہیں۔آئی سی سی ورلڈ کپ2015 میں بھی یہی دیکھنے کو آیا جب پہلے ہی میچ میں یونس خان کو اوپن کروا دی گئی جبکہ سرفراز احمد پچھلی سیریز میں رنز کر چکے تھے اور ساتھ ہی ساتھ ایک ایسے اوپنر کو پاکستان سے آسٹریلیا بھیج دیا گیا جس کی ڈومیسٹک میں نا تو کوئی کارکردگی تھی اورنا ہی پاکستان کے لیے پچھلے میچز میں رنز۔ اب پاکستان کرکٹ ٹیم نے بنگلا دیش کا دورہ کرنا ہے جہاں قومی ٹیم تین ایک روزہ میچ ، ایکT20 اور دو ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کھیلے گی اور نئی سلیکشن نے ٹیم کا اعلان کرتے ہوئے کچھ نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کا فیصلہ بھی کیا ان ہی میں سے ایک نوجوان اوپنرسمیع اسلم بھی ہیں جو کافی دیر سے انٹرنیشنل کرکٹ کے لیے تیار ہیں لیکن ان کو موقع اب ملا ہے۔سمیع اسلم انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ مجھے بہت عرصے سے اپنی باری کا انتظار تھا اور وہ وقت آگیا اب میں اپنے آپکو درست انتخاب ثابت کر کے اپنی جگہ ٹیم میں پکی کروں گا اور تینوں فارمٹس کا مستقل کھلاڑی بنوں گا۔سمیع اسلم جنہوں نے کرکٹ اپنے والد کو دیکھ کر شروع کی جو کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے کھیلتے تھے ،سمیع کا کہنا تھا کہ کرکٹ کا شوق ان کو انکے والد کی وجہ سے ہوا ،سمیع نے 2004میں کرکٹ کھیلنا شروع کی۔جب سمیع اسلم سے 2014 کے سمر کیمپ کے بارے میں پوچھا گیا تو انکا کہنا تھا کے وہ کیمپ سب سے منفرد تھا ، عام طور پر کیمپ میں بیٹنگ اور بولنگ کی ٹریننگ کی جاتی ہے لیکن اس طویل عرصے کے کیمپ میں ہَم نے صرف فٹنس پر توجہ دی اور صرف کیمپ کے آخری ہفتے بیٹنگ اور باؤلنگ کی پریکٹس کی۔ سمیع اسلم کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کیمپ سے مجھے بہت کانفیڈینس ملا ، جب آپکے ارد گرد شاہد آفریدی ، مصباح اور یونس خان جیسے کھلاڑی پریکٹس کر رہے ہوں تو آپکو ایک اندر سے کانفیڈینس ملتا ہے۔

سمیع اسلم سے جب پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپننگ کے مسئلے پر بات کی گئی تو انکا کہنا تھا کہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی طرف سے تینوں فورماٹس میں کھیلنے کے لیے تیار ہوں ، انکا مزید کہنا تھا کہ میں لاہور ایگل کی طرف سے اور قائد اعظم ٹرافی میں بھی لگاتار اچھی کارکردگی دیتا آ رہا ہوں اور امید ہے اسی اچھی فارم کو بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں لے کر چلوں گا اور ان شا اللہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی اوپننگ کا مسئلہ حل کر دوںگا۔پاکستان کرکٹ ٹیم میں جب بھی کوئی کھلاڑی آتے ساتھ ہے اچھا کھیل پیش کرتا ہے تو یہاں لوگ اس کھلاڑی کو کسی لیجنڈ سے ملانا شروع کر دیتے ہیں جسے عمر اکمل کو ویرات کوہلی اورصہیب مقصود کو انضمام الحق سے ملایا گیا ، جس سے نوجوان کرکٹر پر خاصا پریشر بنتا ہے،اسی سوال کے جواب میںسمیع اسلم کا کہنا تھا کے ان پر ایسا کوئی پریشر نہیں ہو گا وہ صرف اپنی کرکٹ پر توجہ دیتے ہیں ۔انکا مزید کہنا تھا کہ میں نہیں چاہتا مجھے کسی سے ملایا جائے ، میں چاہتا ہوں دنیا کو ایک نیا کھلاڑی دیکھنے کو ملے جسکا نام سمیع اسلم ہو گا۔سمیع اسلم کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب بھی کوئی سینئر کھلاڑی سے بات ہوتی ہے وہ بھی ان کو یہی مشورہ دیتے ہیں کہ اپنی کرکٹ پرتوجہ مرکوز کرو اور فٹنس قائم رکھو۔سمیع اسلم سے جب انڈر19 اور انٹرنیشنل کرکٹ کے فرق سے متعلق سوال کیا گیا تو انکا کہنا تھا کے انڈر 19 اور انٹرنیشنل کرکٹ میں بہت ذیادہ فرق ہے اور سب سے بڑا فرق کراؤڈ کا ہے کیوں کے جب آپ کراؤڈ کے سامنے کھیل رہے ہوتے ہو اسکا ایک الگ ہے پریشر ہے سمیع اسلم نے یہاں پاکستان کرکٹ بورڈ کی بھی تعریف کی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈر 19 ٹیم کو ہر وہ سہولت دی جو انٹرنیشنل ٹیم کے پاس ہوتی ہیں۔انڈر 19کرکٹ ٹیم سے متعلق بات ہوتے ہوئے ایک سوال اس ورلڈ کپ فائنل کا بھی پوچھا گیا جب پاکستان انڈر 19 ٹیم جنوبی افریقی بولرز کے سامنے ڈھیر ہو گئی تھی۔ یہ ورلڈ کپ کا فائنل دبئی میں کھیلا گیا تھا ، پورے ٹورنامنٹ میں پاکستان ٹیم کی کرکٹ بہترین جا رہی تھی اور کنڈیشنس بھی ہماری ہی تھیں لیکن کیوں پاکستان ٹیم فائنل میں بازی ہار گئی ؟ اِس کا جواب سمیع اسلم نے کچھ اِس طرح دیاـ’’پورے ٹورنامنٹ میںاسکور ہماری اوپننگ ہی پورا کر دیتی تھی یا ذیادہ سے ذیادہ دو یا تین آؤٹ ہو جاتے تھے لیکن اس فائنل میچ میں مڈل آرڈر تک بیٹنگ آ پہنچی تھی اور وہاں پر مڈل آرڈر کولپس کر گیا‘‘۔بیٹنگ سے ہوتی ہوئی بات پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسکور چیس کرنے تک آ پہنچی اورسمیع اسلم سے پوچھا گیا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو کیوںمشکل پیش آتی ہے جب ٹارگٹ چیس کرنا ہو تو؟ انکا کہنا تھا کہ یہ بات سوچ سے بالاتر ہے کہ کیوں ہماری ٹیم ٹارگٹ چیس نہیں کر پاتی ، شاید ہماری شوٹس غلط ہوتی ہیں اور ہَم لمبی باری لینا نہیں جانتے ، انکا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنی باری کو لے کر چلنے والے کھلاڑی ہیں اور اپنی باری سے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کرے گے۔ 

پاکستان انڈر 19 میں جو بھی پلیئر آتا ہے اسکے بہت چانس ہوتے ہیں کہ وہ انٹرنیشنل ٹیم میں بھی آئے ، یہی سوال جب سمیع اسلم سے پوچھا گیا تو انکا کہنا تھا کہ میری سلوٹ میں بہت سے پلیئر زایسے ہیں جو قومی ٹیم میں کھیل سکتے ہیں جن میں امام الحق ، ظفر گوہر اور کامران غلام شامل ہیں۔ ہر کھلاڑی کے کیریئر میں کچھ تلخ یادیں ہوتی ہیں اور کچھ بہت ہی حَسِین ، جب نوجوان بیٹسمین سمیع اسلم سے اِس بارے میں پوچھا گیا تو انکا کہنا تھاکہ انڈر 19 ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل کے میچ میںجو کہ انڈیا کے خلاف تھا اور اس دن عید الفطربھی تھی اور میں پہلی گیند پر آؤٹ ہو گیاتھا ، وہ میری زندگی کا اب تک کا سب سے برا دن ہے ۔ سمیع اسلم کا کہنا تھا کہ ان کے کیریئر میں ان کو بہت سی حَسِین یادیں بھی ہیں جن میں سب سے ٹوپ پر ایشیاکپ میں انڈیا کے خلاف سنچری تھی جہاں انہوں نے134کی شاندار باری کھیلی تھی۔سمیع اسلم سے جب فیلڈنگ کے متعلق سوال کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ آج کل آپ میچز ہی فیلڈنگ کی وجہ سے جیتے ہیں ، پاکستان اور آسٹریلیا کا میچ آپکے سامنے ہی ہے انکا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک کھلاڑی پر منحصر کرتا ہے کہ وہ کتنی فیلڈنگ پریکٹس کرتا ہے۔ 

اراکین پارلیمنٹ کے ٹیکس گوشوارے Arakeen e Parliment k tax go shware

.....جویریہ صدیق.....
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اراکین اسمبلی کے ٹیکس کی تفصیلات جاری کردیں۔ ڈائریکٹری میں 2014ء میں ارکان کی طرف سے دئیے گئے ٹیکس کی معلومات شامل ہیں۔پڑھنے سے پہلے تو ذہن میں یہ ہی خیال آتا ہے کہ پاکستان کے امیر ترین سیاستدانوں نے اپنی حیثیت اور امارت کے مطابق لاکھوں کروڑوں میں ٹیکس دیا ہوگا لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے کچھ ارکان تو ایسے ہیں جن کے پاس کروڑوں روپے کے اثاثے ہیں لیکن ٹیکس کی مد میں کچھ بھی ادا نہیں کیا۔اسمبلی اجلاس ہو یا جلسے ہوں اس دوران سفر نجی جہازوں میں ،قافلوں میں آنے والی قیمتی بلٹ پروف گاڑیاں دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں ،قیمتی ڈیزائنر سوٹ،مہنگے جوتے،اسلحہ برادر نجی حفاظتی دستے کئی ایکٹر پر مبنی فارم ہائوسز،زرعی رقبے لیکن ٹیکس کے خانے میں یا تو صفر یا تو چند ہزار روپے لکھے ہوئے۔

کچھ خواتین رکن اسمبلی بھی اس مقابلے میں مردوں کے ساتھ کھڑی نظر آئیں جو ہر روزڈیزائنر اشیاءاورقیمتی زیورات، لاکھوں روپے مالیت کے دھوپ کے چشمے اور گھڑیاں پہنتی ہیں پر ٹیکس کے خانے میں صفر لکھا ہے،جو چیزیں لندن میلان پیرس میں لانچ ہوتی ہے سب سے پہلے خواتین سیاستدانوں کے پاس آتی ہے لیکن حیرت ہے یا تو ٹیکس دیا نہیں یا پھر اتنا کم کے انسان سوچ میں پڑ جائے۔ ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ کے 96 ارکان، قومی اسمبلی کے305 اور صوبائی اسمبلیوں کے 639 ارکان نے ٹیکس ریٹرن فائل کیا۔129 ارکان کے نام اس ڈائریکٹری میں شامل نہیں ۔جن میں شرمیلا فاروقی، مراد سعید ،عارف علوی اور مخدوم امین فہیم قابل ذکر ہیں۔ 

95 ارکان ایسے ہیں جنہوں نے صفر انکم ٹیکس ادا کیا۔اب سیاستدانوں کے بہانے کچھ بھی ہوں کہ میرا بزنس تو بچوں کے پاس ہے سب کچھ والدین کا ہے یا خرچہ مجازی خدا اٹھا رہے ہیں لیکن قانون سازوں کے لیے اتنا کم ٹیکس دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ملک اور اس کے قوانین کے ساتھ کتنے مخلص ہیں۔جو ارکان خود ہی مکمل ٹیکس نہیں دیتے وہ کیا خاک قوم کے لیے قانون سازی کیا کریں گے۔

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے26 لاکھ11 ہزار روپے ٹیکس دیا یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جن کا رائیونڈ میں محل ہے، بزنس لندن سے جدہ تک پھیلا ہوا ہے۔بات ہو اگر خادم اعلیٰ شہباز شریف کی جو کرپشن کرنے والوں کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے55 لاکھ25 ہزار روپے کا ٹیکس دیا۔نظر ڈالیں اگر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ٹیکس پر تو انہوں نے22 لاکھ 86 ہزار روپے ٹیکس دیا ،یہ وہ ہی وزیر خزانہ ہیں جنہوں نے بیٹے کو40لاکھ ڈالر کا قرضہ حسنہ دیا تھا۔نئے پاکستان کے روح رواں عمران خان جو تبدیلی کا نعرہ لگتے ہیں سب سیاستدانوں کو کرپٹ کرپٹ پکارتے ہیں ،انہوں نے 2 لاکھ 18 ہزار روپے ٹیکس دیا حالانکہ موصوف ڈھائی سو کنال کے گھر میں رہتے ہیں اورنجی جہاز میں سفر کرنا پسند کرتے ہیں ۔پر جب ٹیکس کی بات آتی ہے تو نئے پاکستان کے لیڈر پرانے پاکستان کے لیڈران کے ساتھ کھڑے ہیں۔

بات ہو اگر پی پی کے خورشید شاہ کی تو انہوں نے صرف ایک لاکھ روپے ٹیکس دیا۔سندھ کے سیاہ و سفید کے مالک وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ بھی ان ساتھ کھڑے نظر آئے اور ٹیکس کی مد میں صرف ایک لاکھ 11 ہزار روپے دئیے۔ ایئر لائن کے مالک شاہد خاقان عباسی نے 22 لاکھ روپے ٹیکس دیا۔چیئرمین سینیٹ کی بات ہو تو رضا ربانی صاحب نے 6 لاکھ85 ہزار ٹیکس دیا۔مولانا فضل الرحمان نے صرف15 ہزار روپے ٹیکس دیا۔شیریں مزاری11لاکھ 21 ہزار، شاہ محمود قریشی 15 لاکھ33 ہزاراور مشاہد حسین49 ہزار روپے ٹیکس کے ساتھ نظر آئے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے ٹیکس ادا ہی نہیں کیا۔ شاہ فرمان،جمشید الدین ،امتیاز قریشی،اکرام اللہ،ملک قاسم،ارباب جہانداد خان،قاسم خٹک،علی امین گنڈا پور،امتیازشاہد ،محمود خان نے بھی ٹیکس کی مدد میں ایک روپیہ بھی نہیں دیا۔کل ملا کر 31ارکان نے ٹیکس ادا نہیں کیا۔ جن میں خواتین رکن صوبائی اسمبلی رقیہ حنا،راشدہ رفعت،انیسہ طاہر زیب خیالی،نجمہ شاہین،عظمی خان،نرگس علی اور نسیم حیات شامل ہیں۔ نور سیلم ملک نے ایک کروڑ21 لاکھ روپے ٹیکس دیا ۔جبکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ پرویز خٹک نے 6 لاکھ 60 ہزار روپے ٹیکس دیا۔

بات ہو اگر بلوچستان کی تو وزیر اعلیٰ بلوچستان عبد المالک نے صفر ٹیکس ادا کیا۔سردار محمد اسلم نے بھی کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا،جبکہ میر حمال نے بلوچستان اسمبلی کے تمام ارکان کے مقابلے میں سب سے زیادہ44لاکھ7 ہزارروپے ٹیکس ادا کیا۔

سندھ اسمبلی میں صفر ٹیکس دینے والوں میں سردار کمال خان،میر اللہ بخش تالپور، فیاض علی بٹ ،بیگم شہناز،سائرہ شاہلانی ، خرم شیر زمان، وقارحسین شاہ اور عارف مسیح شامل ہیں۔اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے5 لاکھ 37 ہزار ٹیکس دیا۔ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے ایک لاکھ26 ہزار روپے ٹیکس دیا۔فیصل سبزواری نے49ہزار دو سو چار روپے ٹیکس دیا۔خواجہ اظہار الحسن نے94 ہزار دو سو35 روپے ٹیکس دیا۔اویس مظفر نے تین لاکھ 72ہزار روپے ٹیکس دیا۔نادر مگسی نے 4 لاکھ73ہزار روپے ٹیکس جمع کروایا۔وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے 15لاکھ89 ہزار روپے ٹیکس دیا۔رئوف صدیقی نے58 ہزار آٹھ سوروپے کا ٹیکس دیا۔

پنجاب اسمبلی کے رکن ارشد وڑائچ نے دو کروڑ 40لاکھ 80 ہزار روپے ٹیکس دیا اور وہ تمام ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی کے مقابلے میں سب سے زیادہ ٹیکس دے کر ٹاپ پر ہیں۔ان کے بعد سب سے زیادہ ٹیکس شیخ علائو الدین نے ایک کروڑ31لاکھ ٹیکس دیا۔اسپیکراور قائم مقام گورنر رانا اقبال خان نے ایک لاکھ 83 ہزارروپے ٹیکس دیا۔ راجہ اشفاق سرور نے ایک لاکھ 40ہزارروپے ٹیکس دیا۔شجاع خانزادہ70 ہزار روپے،رانا ثناء اللہ6 لاکھ 82ہزار روپے،پرویز الہٰی13 لاکھ روپے،مونس الہٰی 16 لاکھ روپے،مسز ذکیہ شاہنواز نے ایک لاکھ 66ہزارروپے ٹیکس دیا۔حنا بٹ نے ایک لاکھ 81 ہزار روپے ٹیکس دیا۔اب اگر دیکھیں ان ارکان کو جنہوں نے صفر ٹیکس دیا ۔ ملک احمد سعید خان، سید علی رضا گیلانی، مسعود شفقت، رائے منصب علی خان، میاں عطا محمد مانیکا، احمد شاہ ، سردار خان محمد، پروین اختر نسیم لودھی، کنول نعمان، حسنیہ بیگم،لبنیٰ فیصل،رائو اختر، ملک فیض، چوہدری رفاقت حسین، چوہدری اشرف وڑائچ، میاں طاہر، شیخ اعجاز، رائے عثمان کھرل،رائے حیدر علی خان، سبطین خان، چوہدری طاہر، ملک ظہور انور، ذوالفقارعلی خان،چوہدری لیاقت اور افتخار احمد کے نام شامل ہیں۔

سینٹ کا جائزہ لیں تو کروڑوں روپیہ خرچ کرکے سینٹ میں آنے والوں کے ٹیکس کچھ یوں ہے۔گل بشرا، میر نعمت اللہ ظاہری،محمد عثمان خان کاکڑ،سردار محمد اعظم ،شہباز درانی،ہلال الرحمان،اقبال ظفر جھگڑا،عطاء الرحمان، جان ولیمز،اعظم خان ہوتی،جاوید عباسی،ثمینہ عابد،سراج الحق،ستارہ ایاز،سلیم ضیاء اور نگہت مزرا نے کوئی ٹیکس نہیں دیا۔

سلیم مانڈی والا نے12 لاکھ 34ہزار روپے ٹیکس دیا،سحر کامران نے31ہزار،سسی پلیجو25 ہزار،سعید غنی 78 ہزار،فاروق نائیک 68 لاکھ ،فروغ نسیم ایک کروڑ6 لاکھ ،رحمان ملک 70 ہزار،وزیر اطلاعات پرویز رشید3 لاکھ، اعتزاز احسن ایک کروڑ24 لاکھ،طلحہٰ محمود ایک کروڑ42 لاکھ،فرحت اللہ بابر5 لاکھ86ہزار روپے اورعبد الغفور حیدری30ہزار روپے ۔

اب نظر دوڑائیں قومی اسمبلی پر تو پہلے بات ہوجائے صفر ٹیکس والوں کی گلزار خان،مجاہد علی،عاقب اللہ،محمد اجمل خان،عبد الرحمان خان کانجو،ملک سلطان محمود،سردار کمال خان،ساجد احمد،عیسیٰ نوری،سنجے پروانی ان میں شامل ہیں جن کی آمدنی اتنی نہیں کہ وہ ٹیکس دیں۔حاجی غلام احمد بلور نے 17ہزار روپے ٹیکس دیا۔عمر ایوب34 لاکھ، کیپٹن صفدر 39 ہزار،اسد عمر4 لاکھ 89ہزار،وزیر داخلہ چوہدری نثار6 لاکھ ،عوامی مسلم لگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے 3 لاکھ ،شیخ آفتاب 5 لاکھ،سائرہ افضل تاڑر 87 ہزار،دانیال عزیر4 لاکھ 68 ہزار، طلال چوہدری 47ہزار، احسن اقبال ایک لاکھ 30 ہزار،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق تین لاکھ،سعد رفیق 20 لاکھ،شفقت محمود 72 ہزارروپے،فریال تالپور48 لاکھ،نوید قمر40ہزار روپے،فہمیدہ مرزا59 ہزار روپے،شازیہ مری60ہزار روپے،ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈرفاروق ستار89 ہزار،سید علی رضا عابدی 4 لاکھ 93 ہزار،محمود خان اچکزئی 15 ہزار، نفیسہ خٹک 54 ہزار،عائشہ گلالئی 31 ہزار ،زیب جعفر31ہزار،طاہرہ اورنگزیب 15 ہزار،مائزہ حمید54 ہزار،کشور زہرہ چار لاکھ90 ہزار، نفیسہ شاہ نے تین لاکھ،ماروی میمن 43 ہزار،ثمن جعفری 14 ہزار اور منزہ حسن نے ایک لاکھ 12 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔

یہ صورتحال بہت افسوس ناک ہے کے عوام کے نمائندے ہی ٹیکس نہیں دے رہے تو یہ ملک کیا خاک ترقی کرے گا۔قانون سازوں کو قانون کی پاسداری بھی کرنی چاہیے۔ملک کی ہر چیز پر قادر افراد کے دل اتنے ہی چھوٹے ہیں جتنا ان کے انکم ٹیکس کے خانے میں ہندسہ درج ہے۔ اراکین کو چاہیے اپنے ان ساتھیوں سے کچھ سکھیں جنہوں نے ایک کروڑ سے اوپر کا ٹیکس دیا ہے۔ جس ملک نے انہیں اتنی عزت اور دولت دے رکھی ہے اس کا کچھ تو قرض اتاریں، اس ہی ملک سے کمائے ہوئے سرمائے کا اگر تھوڑا سا حصہ ایمانداری کے ساتھ ٹیکس دیتے ہوئے لوٹا دیا جائے تو ہمیں کبھی ورلڈ بینک اور آیی ایم ایف سے قرضے نا لینے پڑیں۔ -

پرانے دشمن، نئی سیریز Purane Dushman , Nai series

......محمدفرقان بھٹی.....

انگلینڈ کرکٹ ٹیم آج کل ویسٹ انڈیز کے ہرے بھرے میدانوںمیں موجود ہے جہاں وہ تین ٹیسٹ میچز پر مشتمل کرکٹ سیریز کھیلے گی ۔ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز دونوں ہی ایسی ٹیمز ہیں جن کی ورلڈ کپ میں کچھ خاص کارکردگی نہیں تھی یہاں تک کہ انگلینڈ کی ٹیم کوبنگلا دیش کے ہاتھوں شکست ہوئی جب کہ آئرلینڈ نے ویسٹ انڈیز کو ہرا دیا تھا۔ اِس کی وجہ شاید یہ ہے کہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز دونوں ٹیمز نے ورلڈ کپ سے پہلے ایک جیسی غلطی کی اور وہ کپتان بدلنے کی تھی ، دونوں ٹیمز نے ایسے کھلاڑیوں کو کپتانی دی کہ وہ ٹیم کو لیڈ ناکر سکے اور ورلڈ کپ سے بھی باہر ہو گئے ۔ 

اگر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سب سے پہلا ٹیسٹ 26 جون 1928کو لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا گیا تھا جہاں انگلینڈ کی طرف سیجارج تیلدیسلے کی شاندار سنچری کی بدولت انگلینڈ یہ ٹیسٹ میچ اننگز اور 58 رنز سے جیت گیا تھا ، البتہ اِس دورمیںمین آف دی میچ کا ایوارڈ نہیں دیا جاتا تھا ۔ پھر اگلے دو سال تک یا تو انگلینڈ کی ٹیم جیت حاصل کر لیتی تھی یا کبھی میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جاتا تھا لیکن پِھر21 فروری 1930کو کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز کے کلفرڈ روچ کی شاندار ڈبل سنچری اور پِھرویسٹ انڈیز ٹیم کی تباہ کن با ؤلنگ کی وجہ سے کالی اندھی یہ ٹیسٹ میچ 289کے برے مارجن سے جیت گئی اور انگلینڈ کے خلاف اپنی پہلی کامیابی تاریخ میں درج کروائی ۔ اسکے بعد کبھی انگلینڈ جیتا تو کبھی ویسٹ انڈیز، لیکن 70کی دہائی میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب ویسٹ انڈیز کے پاس دنیا کا بہترین باؤلنگ اٹیک اور سب سے مضبوط بیٹنگ لائن اپ آ گئی تھی اور اِس دور میں ویسٹ انڈیز نے انگلینڈ کے خلاف لگاتار 14 ٹیسٹ میچز جیتے پِھر کبھی کی بار انگلینڈ ایک میچ جیت جاتا لیکن ویسٹ انڈیز پِھر کم بیک کر جاتی ۔ 

لیکن 2000 ءمیں کھیل کا پانسہ بالکل بدل چکا تھا اب باری انگلینڈ کی تھی ، اِس بات کا اندازہ اِس سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2000 ءسے لے کر اب تک انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 27 ٹیسٹ میچز کھیلے جا چکے ہیں جن میں ویسٹ انڈیز کو صرف دو میچز میں کامیابی حاصل ہوئی ۔ ان دونوں تاریخی کرکٹ ٹیمز کے درمیان آخری ٹیسٹ سیریز 2012 میںکھیلی گئی تھی جہاں انگلینڈ نے دو کے مقابلے میں صفرسے سے کامیابی سمیٹ لی تھی۔ . انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیانکھیلے گئے ٹیسٹ میچز میں 45 بار انگلینڈ جیتا اور53 بار ویسٹ انڈیز کی جھولی میں جیت آئی جب کہ 50 ٹیسٹ میچز بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے ، ویسٹ انڈیز کی ٹیم دنیا میں تیسرے نمبر پر سب سے ذیادہ503 ٹیسٹ میچز کھیلنے کا اعزاز بھی رکھتی ہے، جب کہ انگلینڈ کی ٹیم952 ٹیسٹ کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے اور آسٹریلیا کی ٹیم 773ٹیسٹ کھیل کر دوسرے نمبر پرہے ۔

انگلینڈ کی طرف سے ٹیسٹ میچز میں سب سے ذیادہ رنز والے بیٹسمینگراہم گوچ ہیں،انہوں نے 8900 رنزبنائے جب کہ ایان بوتھم 383 لے کر سب سے ذیادہ شکار کرنے والے بولرہیں۔

ٹیسٹ میںانگلینڈ کا سب سے بڑا سکور903 ہے، جوآسٹریلیا کے خلاف 1938 میں بنا، جب کہ سب سے کم اسکور 45 ہے اور یہ آسٹریلیا کے خلاف 1887 میں بنایا گیا ۔ دوسریطرف ویسٹ انڈیز کی طرف سے سب سے ذیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین برائن لارا ہیں ،انہوں نے 11953 رنز بنائے جبکہ سب سے ذیادہ وکٹیں لینے والے بولر کورٹنے واش ہیں ، ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی 519 وکٹیں ہیں۔ ویسٹ انڈیز کا ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے بڑا سکور تین وکٹوں پر 790 رنزہے، جو 1958 میں پاکستان کے خلاف بنایا، جب کہ سب سے کم اسکور انگلینڈ کے خلاف ہے ، جب کالی آندھی2004میں 47 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی۔ 

شہید ملت لیاقت علی خان کےقتل کا راز Liaqat ali khan k qatal ka razz

......سیدعارف مصطفیٰ......
بالآخر اس خونی داستان پہ سے پردہ اٹھ ہی گیا کہ جس نے 16 اکتوبر 1951 کو کمپنی باغ راولپنڈی میں جنم لیا تھا اور یہ داستان تھی پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما نوابزادہ لیاقت علی خان کی شہادت کی کہ جنہیں وہاں جلسے سے خطاب کے دوران گولیاں مار کر شہید کردیا گیاتھا، ابھی حال ہی میں امریکی محکمہ خارجہ کی وہ کلاسیفائڈ دستاویزات جو 50 سال سے زائد پرانی ہونے کی وجہ سے متعلقہ قوانین کی رو سے ڈی کلاسیفائی کردی گئیں ہیں یعنی جنہیں منظر عام پہ لانے کی اجازت مل گئی ہے تو ان سے اس تلخ حقیقت کا انکشاف ہوا ہے کہ مقتول وزیراعظم اس وقت کے امریکی صدر ہیری ایس ٹرومین کے عتاب کا نشانہ بنے تھے کیونکہ انہوں نے ایران کے تیل کے ذخائر کی فروخت کے ٹھیکے دلوانے میں امریکہ کی مدد کرنے سے صاف انکار کردیا تھا اور ساتھ ہی امریکی فضائیہ کے ان طیاروں کو واپس بلوانے کا مطالبہ کردیا تھا کہ جو پاکستان میں اس وقت موجود تھے اور جن سے بظاہر روسی معاملات کی جاسوسی اور مداخلت کا کام لیا جانا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ان دستاویزات سے عیاں ہونے والی یہ خونچکاں حقیقت اپنے اندر بہت کچھ سموئے ہوئے ہے،، اور یہ شاید کچھ نہ کچھ لوگوں کیلئے باعث حیرت بھی ہو لیکن جو لوگ اہل نظر وہ ان حقائق سے پورے طور پہ واقف نہ بھی سہی لیکن ایسی کسی بیرونی سازش کے باعث لیاقت علی کی شہادت ہونے کے بارے میں تقریباً زیادہ تر کا اتفاق تھا ،،، اس سازش پہ عملدرآمد کیلئے بھی وہی روایتی طریقہ کار استعمال کیا گیا کہ واردات کا ارتکاب’’گورا صاحب‘‘ نے اپنے ہاتھوں سے نہیں کیا بلکہ اسی خطے کے لوگ کام میں لائے گئے اور قاتل سید اکبر کو قتل کی واردات کرچکنے کے بعد بھی وہیں مار ڈالنے کا بھی بڑی کامیابی سے انتظام کرلیا گیا تھا اور قاتل سید اکبر کو موقع پہ ہی شوٹ کرڈالنے والے پولیس افسر نجف شاہ کو یوں تو جلدی جلدی بہت ترقیاں دیدی گئیں لیکن جلد ہی پراسرار طور پہ اسے بھی قتل کردیا گیا،،، قتل کی سیریز یہیں پہ ختم نہیں ہوئی بلکہ اسکے بعد جب اس سانحے کی تحقیقات کیلئے جب مشہور سراغ رساں ادارے اسکاٹ لینڈ یارڈ سے یہاں بلائی گئی تو وہ یہاں پہنچتے ہی ایک خوناک فضائی حادثےکا شکار ہوگئی جس میں پاکستان کی ایک اہم تحقیقی ایجنسی کے سربراہ اعتزازالدین احمد بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھےتھے۔

اس ہائی پروفائل قتل کی فائل بتدریج کئی مقتولین کے تذکرے سے بھر گئی اور پھر داخل دفتر کردی گئی اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم کی قتل کی سازش تاریخ کےدھندلکوں میں جیسے کہیں کھوگئی لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ خون کے داغ کبھی نہیں چھپتے ،،،تو اب وہ داغ پھر سے ابھرآئے ہیں ،،، لیاقت علی خان کے قتل کے پیچھے اور بھی کئی وجوہات بیان کی جاتی رہی ہیں جن میں کشمیر میں جنگ جاری رکھنے اور پاکستان کا حصہ بنانے کیلئے انکی خصوصی مالی سپورٹ اور امریکہ کی نسبت بتدریج روس کی جانب ترجیحاتی رویہ کا بھی تذکرہ کیا جاتا ہے اسکے علاوہ عالم اسلام کی جانب بڑھتا ہوا جھکاؤ اور داخلی سطح پہ ملک میں جاگیرداری نظام کے خاتمے کے حق میں انکی پالیسیوں میں متوقع تبدیلیوں کے اندیشے اور اس وجہ سے جاگیردار طبقے میں انکی بڑھتی مخالفت بھی انہیں راستے سے ہٹانے کے اسباب بیان کیئے جاتے ہیں۔

یہ ڈی کلاسیفائڈ دستاویزات درحقیقت ہم اہل وطن کیلئے غوروفکر کرنے اور عالمی سازشوں کو سمجھنے میں بڑی مدد دے سکتی ہیں بشرطیکہ انہیں آئندہ کیلئے اپنی صفوں میں استحکام لانے کیلئے حب وطن اور دردمندی سے پڑھا جائے ،،، کرنال کے اس شہید نوابزادے نے جس وطن کی آزادی اور پھر اس آزادی کی بقاء کیلئے پہلے اپنے مال اور پھر جان تک کی قربانی دیدی اسے خراج تحسین پیش کرنے کا صحیح اور بامقصد طریقہ صرف یہی ہے کہ ہم انکی اس قربانی کو کبھی فراموش نہ کریں اور آئندہ عالمی طاقتوں کی جانب سے اپنے معاملات میں مداخلت کی ہر کوشش و سازش کو ناکام بنادیں۔ 

’سیو دی شفقت‘اورسائبرکرائم

.....جویریہ صدیق.....                   
سوشل میڈیا پر اکثر بے تکے ٹرینڈز دیکھنے کو ملتے ہیں ان کو بنانے والوں میں سے اکثر سیاسی جماعتوں کہ پے رول پر ہیں جن کا کام ہی صبح سے شام تک مدمقابل افراد پر کیچڑ اچھالنا ہے۔اس ہر طرح سوشل میڈیا پر ایک اور طبقہ بھی ہے جو ان سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے جن کا کام ہر وقت وطن عزیر کو بدنام کرنا ہے۔

اس بار بھی کچھ ایسا ہوا کہ نام نہاد لبرلز کی جانب سے ٹوئٹر پر ایک ٹرینڈ چلا’’ سیو دی شفقت‘‘ ۔شفقت کشمیر سے تعلق رکھنے والا جوان کراچی میں محنت مزدوری کی غرض سے آیا۔اس نے کچھ عرصے بعد ایک معصوم بچے کو اغوا برائے تاوان کے لیے اٹھا لیا اور بعد ازاں قتل کردیا۔اب لبرلز نے یہ شور مچا دیا کہ شفقت تو صرف 14 برس کا تھا، اس پر پولیس نے تشدد کرکے بیان لیا اور ایک 14 سال کے بچے کو سزا کسیے ہوسکتی ہے۔ان کو شروع کرنے والوں نے پاکستان کی عدلیہ پر بھی انگلیاں اٹھائیں ، اکیسویں آئینی ترمیم پر اعتراض کیا اور یہ منظم پروپیگنڈہ شروع ہوگیا کہ پاکستان میں تو سفاک لوگ بستے ہیں جو 14 سال کے بچوں کو بھی پھانسیاں دے رہے ہیں۔شفقت کے بچپن کی ایک تصویر بھی کچھ این جی اوز کے ملازمین اپ لوڈ کرتے رہے اور پاکستان کے خلاف دہایاں دیتے رہے۔عالمی میڈیا اور ممالک بھی پاکستان سے سوال کرنے لگے۔یہاں تک کہ معاملہ اقوام متحدہ بھی تک پہنچ گیا۔سماجی تنظیمیں این جی اوز نے حکومت پر دبائو جاری رکھا اور سوشل میڈیا نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا۔

پھانسی سے ٹھیک ایک دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک برتھ سرٹیفکیٹ پھیلا دیا گیا جو کہ ٹائون کمیٹی کیل کشمیرکی طرف سے جاری ہوا جس کے مطابق شفقت حسین کی تاریخ پیدایش یکم اکتوبر1991 ہے۔یہ سرٹیفکیٹ 22 دسمبر 2014 کو جاری ہوا، جب یہ سوال اٹھا یا گیا کہ1991 میں پیدا ہونے والے بچے کا سرٹیفکیٹ 2014 میں کیوں جاری ہوا تو شفقت کے ساتھ کھڑی این جی اوز کے مطابق علاقہ ہی اتنا پسماندہ ہے تو یہاں روایت ہی نہیں کاغذ بنائے جائیں ۔ چلیں مان لیتے ہیں لیکن اگر سرٹیفکیٹ غور سے دیکھا جائے تو جس بھی جلد بازی میں یہ بنایا اس نے گورنمنٹ کے مخف میں جی کے بجائے ڈی لکھ دیا۔ٹائون کی اسپیلنگ بھی غلط ہے ۔پھر بھی پروپیگنڈا اتنا زیادہ تھا کہ صدر ممنون حسین نے شفقت حسین کی پھانسی موخر کرکے اس کی عمر کے تعین کی جانچ کے لیے کہا۔وزیر داخلہ چوہدی نثار نے بھی کہا یہ انسانی جان کا معاملہ ہے اس پر سیاست اور بیان بازی سے گریز کیا جائے۔انہوں نے کہا نہ ہی شفقت کے والد کا کارڈ ملا ناہی والدہ کا، صرف ایک بھائی کا کارڈ ملا جس کی عمر44 سال ہے۔ تاہم ایف آئی اے کی ٹیم نے اس معاملے کی تحقیقات کی اور اس کے نتیجے میں یہ بات عیاں ہوگی کہ شفقت کو جس وقت پولیس نے حراست میں لیا تھا وہ نا بالغ نہیں تھا۔ اس کی عمر23 سال تھی اب کہاں 14 سال اور کہاں 23سال۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے 2014 میں جاری ہونے سرٹیفکیٹ بھی آزاد کشمیر میں متعلقہ حکام نے کینسل کردیا ہے۔کیونکہ اس میں فراہم کردہ معلومات درست نہیں تھیں۔اس کے ساتھ ساتھ دس سال اس مقدمے میں مجرم کے وکیل منصور الحق نے کبھی عمر کا معاملہ عدالت میں نہیں اٹھایا۔ تو اچانک سے این جی اوز نے کس کے ایما پر یہ معاملہ اٹھایا اور پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کیا۔اس کے پیچھے کیا مقصد تھا کیا کچھ این جی اوزملک میں پھانسی کر سزا دوبارہ سے بحال ہونے پر خوش نہیں تھیں یا اس بات پر فنڈ مہیا ہویے تھے کی شفقت کو بنیاد بنا کر اکیسویں ترمیم کو متنازع بنایا جائے۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر جرم کے وقت شفقت کی عمر ساڑھے بارہ سال تھی تو جس جگہ وہ ملازمت کررہا تھا کیا اسے تین سال پہلے نو سال کی عمر میں چوکیدار کی نوکری دے دی گی تھی کیا ایسا ممکن ہے کوئی نو سال کے بچے کو چوکیدار کی نوکری پر رکھے گا۔شفقت کو جس وقت نوکری پر رکھا گیا تو وہ بالغ تھا ۔اس کے ساتھ1994 میں اسکول کے ریکارڈ کے مطابق شفقت حسین کلاس فور میں تھا اب کیسے ممکن ہے کوئی1991 میں پیدا ہو اور1994 میں وہ درجہ چہارم میں پہنچ جائے۔رپورٹ کے مطابق شفقت حسین کیس کو بنیاد بنا کر ایسا تاثر دیا کہ پاکستان میں کم عمروں کے لیے انصاف کی کوئی جگہ ہی نہیں لیکن یہ غلط ہے صرف کراچی میں2004 سے لے کر2015 تک867 10 اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کے مقدمات کی جیوینائل جسٹس کے تحت کاروائی کی گئی۔

اب جس سال شفقت کو زیرحراست لیا گیا اس ہی سال1455 بچوں کو نو عمر کیلئے نظام انصاف کے تحت کاروائی کا سامنا کرنا پڑا تو شفقت کے ساتھ کسی کی ذاتی دشمنی تو نہیں تھی جو اسکو سزائے موت سنا دی گئی۔پاکستان کی عدلیہ پر سوال اٹھانے والے اس پانچ سال کے بچے کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے جس کو شفقت نے لالچ کی وجہ سے مار ڈالا تھا ۔میرا سوال صرف ان این جی اوز اور خود ساختہ مغرب نواز لبرلز سے ہے کیا وہ اب معافی مانگیں گے جس طرح انہوں نے غیر ملکی اخبارات ویب سائٹس پر آرٹیکل لکھ کر ٹوئٹر پر ٹوئٹس کرکے ملک کا نام دنیا بھر میں بدنام کیا۔سوشل میڈیا پر لوگوں کو گمراہ کیا اور انہیں بھی اپنی مذموم مہم کا حصہ بنایا۔ کیا شفقت کی بچپن کی تصاویر اور جھوٹے برتھ سرٹیفکیٹ بنا کر ملک کو بدنام کیا وہ سب معافی مانگیں گے ؟

ہم سب کو بھی چاہیے بنا تحقیق کیے ہم کسی بھی سوشل میڈیا مہم کا حصہ نا بنیں۔کب کون ڈالرز کی خاطرسوشل میڈیا پر عام عوام کو صرف اپنی جیب بھرنے کی خاطر استعمال کرلے اور بعد میں باضمیر افراد کو اس بات پر پشیمانی ہو کہ ملک کو بدنام کرے والوں نے دھوکہ دے کر استعمال کر ڈالا۔شفقت کا کیسں تو عدالت میں ہے اس کو اور مقتول بچے کا انصاف تو ہم عدالت پر چھوڑتے ہیں۔لیکن کیا حکومت شفقت کو بچانے کے لیے منظم دھوکے پر مشتمل مہم چلانے والوں کے خلاف کاروائی کرے گی۔ان افراد کے خلاف نئے سائبر قانون کے تحت کاروائی ہونی چاہیے جنہوں نے عام پاکستانیوں کو سوشل میڈیا پر بے وقوف بنایا اور پاکستان کو بدنام کیا۔ ایک قاتل کے لیے تو مہم چلائی، اس بچے کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے جس کو شفقت نے بے دردی سے قتل کرڈالا۔مظلوم کا ساتھ دیں ظالم کا نہیں اور اگلی بار سوشل میڈیا پر کسی بھی مہم کا حصہ سوچ سمجھ کر بنائے گا 
0

اصل شناختی کارڈ ساتھ رکھوں یا نہیں؟

......نعمان یونس......                                
ترجمان سندھ رینجرز کے حالیہ بیان میں کراچی کے شہریوں کو ہر وقت اصل شناختی کارڈ اپنے ہمراہ رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ رینجرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ شناختی کارڈ کی کاپی قابل قبول نہیں ہوگی اور اگر کسی کے پاس اصل شناختی کارڈ نہیں ہوگا تو اسے حراست میں لے لیا جائے گا اور جب تک شناخت ثابت نہ ہوجائے اسے حراست میں ہی رکھا جائے گا۔ اس خبر کے آتے ہی شہریوں نے اس حوالے سے ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ ایک جانب تو اس حکم نامے کو کراچی شہر میں امن وامان کے قیام حوالے قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے لیکن دوسری جانب اس پرتنقیدی ردِعمل بھی سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس فیصلے کے حوالے سے کئی سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں۔

اگرچہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس طرح کے اقدامات سے کراچی میں جرائم کے روک تھام میں اہم مدد ملنے کی امید ہے لیکن اس حوالے سے چند خدشات ہیں وہ بھی زیر غور لانا ضروری ہے تاکہ اس فیصلے سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوا جاسکے اور ساتھ ساتھ شہریوں کو بھی آسانی فراہم کی جاسکے۔

سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ سڑک پر کھڑے رینجرز جوان جو شہریوں کے شناختی کارڈ دیکھ رہے ہوں گے کیا ان کے پاس ایسی ٹیکنالوجی بھی میسر ہوگی جس سے وہ کسی بھی شخص کا شناختی کارڈ ڈال کر اس کے جرائم کا ریکارڈ دیکھ سکتے ہوں؟ اگر نہیں تو پھر کس بنیاد پر وہ صرف شناختی کارڈ دیکھ کر کسی کے مجرم ہونے کا اندازہ لگائیں گے؟

اس کے بعد شہریوں نے جن چیزوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے وہ کراچی پولیس کا رویہ ہے۔ اس نئے حکم سے نالاں ہونے والے افراد کراچی پولیس سے بھی نالاں نظر آتے ہیں۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ وہ اصل شناختی کارڈ صرف اور صرف کراچی میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کی وجہ سے ساتھ نہیں رکھتے کیونکہ خدانخواستہ اگر شناختی کارڈ کسی واردات میں چھن جائے تو اس شخص کے لئے دوسرے شناختی کا حصول کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ پہلے تو پولیس سے ایف آئی آر لینے کے لئے تھانے کے روز چکر لگانے پڑیں گے اور کچھ دن بعد آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ کام پہلے دن بھی ہوسکتا تھا اگر آپ کچھ ’’چائے پانی‘‘ کا بندوبست کردیتے۔ چلیں اپنی محنت کی کمائی میں سے کچھ پیسے دے کر ایف آئی آر بنوالی، اب باری ہے نادرا کے دفتر کے چکر لگانے کی جہاں نادرا آفس کے باہر آپ کا انتظار بروکرز حضرات خوش دلی کے ساتھ کررہے ہوں گے۔ یہ بات یہاں بتانا ضروری ہے کہ اگر آپ کے پاس نادرا کا اسمارٹ کارڈ ہے تو آپ کو نیا کارڈ بنوانے کے لئے 1500فیس دینا ہوتی ہے۔

لہٰذا حکومت سے درخواست ہے کہ جہاں وہ کراچی کے شہریوں سے اصلی شناختی کارڈ گھروں سے نکالنے کا حکم دے رہی ہے وہیں حکومت کو شناختی کارڈ کی گمشدگی کی صورت میں نئے کارڈ کے مرحلے کو بھی شفاف بنانا ہوگا ساتھ ساتھ حکومت عوام کے خدشات کو دور کرے اور سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں جاری کرپشن کی روک تھام کی کوشش بھی کرے تاکہ شہری بغیر کسی خوف و خطر شناختی کارڈ باہر لے کر نکلیں۔ 
0

سائبر کرائم کا انسداد ،ایک اہم مسئلہ

.....سید عارف مصطفیٰ....                        
علامہ اقبال نے کہا تھا۔ یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید ،،،، کہ دم بہ دم آرہی ہے صدائے کن فیکن ،،،، نئے نئےانکشافات ہوتے جارہےہیں عجب اسرار عیاں ہورہے ہیں گویا کائنات تہ در تہ کھلتی چلی جارہی ہے، لیکن اسکے ساتھ ساتھ حضرت انسان کی صلاحیتوں کے در بھی پرت در پرت کھلتے جارہے ہیں اس نے اپنے سماج کو نہ صرف سہولتوں و آسائشوں سے بھردیا ہے بلکہ اب نئی دنیاؤں کی کھوج میں جتا ہوا ہے۔۔۔ اسکی ترقی کا سفر اس20ویں صدی میں تو اس قدر تیزرفتار ہوگیا ہے کہ پچھلی تمام صدیوں کی ترقی اس کے سامنے ہیچ ہے،،، اور اس بات پہ تو سبھی کا اتفاق ہے کہ ترقی کی رفتار میں آنے والی یہ تیزی کمپیوٹر کی رہین منت ہے جو کہ معلوم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ایجاد ہے،، درحقیقت کمپیوٹر نے تو انسانی زندگی کے ہر شعبے ہی کو بدل کر رکھدیا ہے اور اسکی وجہ اسکی نہایت تیز کام کرنے کی صلاحیت توہے ہی لیکن اسنے کسی بھی کام کو ایکدم صحیح اور درست انداز میں کرسکنے کی خواہش کو عملی روپ دیکر درجہ کمال تک پہنچادیا ہے۔

یہ سب کچھ تو ہوا ، لیکن کمپیوٹر ساری انسانی زندگی کو متاثر کردینے کے باوجود حضرت انسانی کی عادات و خصلت کو نہیں بدل سکا،،، کیونکہ ہر زمانے میں اچھے اور برے دونوں طرح کے انسان موجود رہے ہیں اور یہ دونوں طرح کے انسان اپنی اپنی فطرت اور تربیت کے مطابق اچھائی یا برائی کو فروغ دینے میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے چلے آئے ہیں بلکہ الٹا ہوا یہ کہ جہاں اچھی فطرت کے لوگوں نے کمپیوٹر کی مدد سے انسانی معاشرے کو زیادہ بہتر بنانے اور راحتیں بہم پہنچانے کے لائق صد تحسین کام کئے وہیں منفی ذہن کے لوگوں نے اسی کمپیوٹر کو زیادہ تیز تخریب کاری سنگین بربادی اور دوسروں کے چین و سکون کو غارت کرنے کیلئے استعمال کیا،،، یہ دونوں طرح کے لوگ اپنی اپنی جہتوں میں مسلسل مصروف کار ہیں اور ان میں اس وجہ سے ایک مستقل جنگ سی چھڑی دکھائی دیتی ہے۔

کمپیوٹر کے منفی استعمالات کیا کیا ہیں یہاں اسکا جائزہ لینا بہت ضروری ہے کہ جنکی وجہ سے شرپسند لوگ بہتیروں کی زندگی اجیرن بنا ڈالنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے یہ سارے غلط استعمالات انٹرنیٹ کی سہولت سے متعلق ہیں

چوری ۔ یعنی کسی دوسرے کے کمپیوٹر کا پاس ورڈ حاصل کرلینا اور تصرف کرنا یعنی اسکے مواد کو نقل کرلینا اور اسکے اہم کاروباری و دیگر راز جان کر انہیں اپنے مفاد میں استعمال کرنا۔

میسجنگ۔ کسی دوسرے کے پاس ورڈ پہ اسکے نام سے غلط گمراہ کن اطلاعت دینا یا غلط میسیج یا مواد کو پھیلانا یا کسی کو ڈرانا دھمکانا یا کسی جائزو قانونی کام سے روکنا یا کسی ناجائز کام کیلئے اکسانا۔۔۔ یہ سب کام غلط میسجنگ کی ذیل میں آتے ہیں۔ 

ہیکنگ- دور بیٹھ کر بھی بذریعہ پاس ورڈ کسی کے کمپیوٹر پہ قابض ہوجانا اور پاس ورڈ بدل کر اصل مالک کی اس ڈیٹا تک رسائی کو ناممکن بنا دینا اور اس ڈیٹا کو بطور اونر استعمال کرنا یا اسکے تمام مواد کو غائب کردینا، یا اس کی فائلوں میں غلط مواد کی ملاوٹ کردینا۔

جعلسازی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جعلی یا فیک آئی ڈی بنانا یا اایسی کسی آئی ڈی کو استعمال کرنا یا کسی اور کی تصویر کو اپنی آئی ڈی کیلئے استعمال کرنا۔

پورنو گرافی - یعنی فحش تصاویر اور مخرب اخلاق مواد پبلک کیلئے اپ لوڈ کرنا

تخریب کاری۔ جس سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی طرح کے تشدد آمیز یا انسانوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے مبنی مواد کو نیٹ پہ ڈالنا اور پھیلانا۔

فراڈ یا فریب کاری۔ یعنی ای بزنس اور کمیونیکیشن کو بذریعہ فراڈ متاثر کرنا،، کیونکہ اب الیکٹرانک دنیا یا انٹرنیٹ کو بھی کاروبار کے ایک اہم ذریعہ کی باضابطہ حیثیت دی جاچکی ہے۔

نیٹ کے غلط استعمال کی روک تھام کیلئے قانون سازی
دنیا بھر میں نیٹ کے غلط استعمال کو یقینی بنانے کیلئے اور اسکے ذریعے جرائم کے ضروری و اہم قانون سازی کی شدید ضرورت تھی اور اب ہیکنگ / فیک آئی ڈی ، پورنو گرافی وغیرہ ہی نہیں ای بزنس سے متعلق جرائم کے انسداد کے لیئے خصوصی قوانین وضع کیئے گئے ہیں ،،، ان سائبر قوانین کے تحت آن لائن معاہدے اور سمجھوتے اور متعلقہ آن لائن دستاویزات و تمام کمرشیل پروسیسز کو ہر ملک میں خصوصی قوانین کے ذریعے مکمل قانونی تحفظ دیا جاچکا ہے کیونکہ دنیا بھر کے بیشمار تجارتی ادارے اب ای بزنس یا آن لائن بزنس کو اپنے بزنس کے ایک لازمی جزو کے طورپہ اختیار کرچکے ہیں اور ای بزنس کی اس دنیا میں اب تقریباً 80 ملین افراد متحرک ہیں اور اسکے مجموعی حجم میں دنیا بھر سے اربوں ڈالر زیر گردش ہیں اور ای بزنس کا یہ دائرہ مسلسل بڑھتا ہی جارہا ہے۔

پاکستان میں بھی پیمرا نے سائبر کرائم کی روک تھام کیلئے جہاں ایک طرف متعلقہ عالمی قوانین کو اپنالیا ہے وہیں ملکی معروضی صورتحال کے پیش نظر کئی مزید قوانین بھی بنائے ہیں کہ جنکی مدد سے اب سائبر کرئم کا ارتکاب کرنے والے کیفر کردار کو پہنچائے جاسکیں گے ،،، لیکن چونکہ ہمارے ملکی اداروں کی کارکردگی میں معیار اور تسلسل کا ہمیشہ سے فقدان رہا ہے اسلئے ابھی تک وطن عزیز میں سائبر کرائم پہ خاطر خواہ قابو نہیں پایا جاسکا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ الیکٹرانک جرائم کے اس سنگین کوچے پہ پوری نظر رکھی جائے کیونکہ سائبر کرائم کرنے والے ایک نیٹ کنکشن اور ایک کی بورڈ کی مدد سے کبھی بھی کسی بھی شریف شہری کا سکون برباد کرسکتے ہیں۔
0

این اے 246میں متحدہ کی جیت


.....فرخ نور قریشی......

نوے کی دہائی میں ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل پر ہر دوسرے دن ایک پرانی پاکستانی فلم دکھائی جاتی تھی۔ میں ان دنوں اسکول میں پڑھا کرتا تھا لیکن پھر بھی یہ پرانی پاکستانی فلمیں شوق سے دیکھتا تھا۔ ایک ایسی ہی مذاحیہ فلم مجھے یاد ہے جس میں ایک رئیس باپ کی بگڑی ہوئی بیٹی اپنے باپ کی اسکیم کا شکار ہو کر ایک غریب مزدور سے شادی کر لیتی ہے لیکن شادی کے پہلے ہی دن اسے اسکی حقیقت کا پتا چل جاتا ہے۔ ہائی سوسائٹی میں اپنا بھرم برقرار رکھنے کی خاطر وہ لڑکی پوری فلم میں اپنے تمام سوشل سرکل میں مشہور کردیتی ہے کہ اسکا شوہر ایک امیر بزنس مین ہے۔ آخر میں اسکا مزدور شوہر اپنی مغرور بیوی کا جھوٹ اسی کی ہائی کلاس سوسائٹی کے سامنے اس کی سالگرہ کے موقعے پر کھولتا ہے۔ وہ ایک بڑے اور عالیشان گفٹ پیک میں سب کے سامنے اپنی بیوی کو گفٹ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ میں آج اپنی خوبصورت بیوی کو اپنی ساری دولت تحفے میں دینے جا رہا ہوں۔پھر وہ سب کے سامنے گفٹ کھول کر اس میں سے کچھ پرانے اور میلے برتن نکال کر ہوا میں لہراتے ہوئے نارا لگاتا ہے ’ ـ بھانڈے کلی کرا لو۔۔۔پرانے نویں بنا لو۔ـ‘۔۔۔اور پھر بیوی کہیں کی نہیں رہتی۔

فلم کا ڈراپ سین اس طرح لکھا اور فلمایا گیا تھا کہ دیکھنے والے تجسس کا شکار ہوجائیں۔۔۔اور وہ اس لیئے کیونکہ ہماری قوم کو دوسروں کے جھوٹ اور بھرم کا بھانڈہ پھوٹتا دیکھ کر بڑا مزہ آتا ہے، چاہے فلم ہو یا حقیقت۔

بس یہی وجہ ہے کہ پوری پاکستانی قوم کی توجہ اور تجسس کا مرکز حلقہ NA 246 میں ہونے والا ضمنی انتخاب رہا جس میں شاید کسی کے مینڈیٹ کا بھانڈہ پھوٹنے کا انتظار تھا۔۔مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔

متحدہ ہمیشہ سے اس حلقے کو اپنا قلعہ مانتی آئی ہے اور یہ حقیقت بھی ہے۔ متحدہ یہاں سے پچھلی تین دہائیوں سے جیتتی چلی آئی ہے ۔گذشتہ دو الیکشن میں تو متحدہ یوں جیتی کہ ایک ایک لاکھ کے ووٹوں کا مارجن بالکل عام سی بات بن گیا۔ لیکن یہ جیت ہر الیکشن اور ہر دور میں الزامات سے پاک نہ رہ سکی۔ متحدہ نے اسے ہمیشہ رد کیا اور حریفوں میں بھی کبھی اس حلقے کے نتیجے کو چیلنج کرنے کی ہمت نہ پیدا ہوئی۔ بقول متحدہ کے اس حلقے میں ان کا واضح اور حقیقی ووٹ بینک ہے اور یہ بات انتخابی نتیجے سے ثابت بھی ہوگئی۔ ایک ایسا انتخابی عمل جو شفافیت کو لیکر اپنی مثال آپ ہے۔ تمام پولنگ کا رینجرز کی نگرانی میں ہونا۔۔۔ووٹرز کی شناختی کارڈ کے ہمراہ تصدیق اور اطمینان کے بعد ووٹ ڈالنے کی اجازت، سی سی ٹی وی کیمروں سے مانیٹرنگ اور سب سے بڑھ کر پورے پاکستان کے میڈیا کی نظریں ایک حلقے پر۔۔۔جماعت اسلامی کا ووٹر لسٹوں پہ اعتراض اگر کچھ دیر کے لیئے فراموش کردیا جائے تو اس سے زیادہ صاف شفاف الیکشن کا آئیڈیل ماحول شاید ممکن نہ ہو۔ اس سب کے باوجود متحدہ کا پولنگ سے قبل اور پولنگ کے دوران شفافیت قائم رکھنے کے ہر عمل کو شک کی نگاہ سے دیکھنا اور اسے خود کو دیوار سے لگائے جانے کا کوئی بہانہ تصور کرنا متحدہ کی خود اعتمادی میں کمی کا اظہار تھا۔

مخالفین کی طرف سے اس حلقے پر گزشتہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگائے گئے۔ یہ متحدہ کے لیئے بہترین موقع تھا کہ شفافیت قائم رکھنے کے ہر اقدام کو سراہتے، چاہے وہ رینجرز کی نگرانی میں کی جانے والی پولنگ کی بات تھی، بائیومیٹرک طرز سے پولنگ کی گذارش تھی یا پھر سی سی ٹی وی کیمرہ کی تنصیب کی بات۔ لیکن اس کے برعکس ایسے ہر عمل اور گذارش کو یوں دیکھا گیا کہ جیسے یہ کوئی متحدہ کے انتخابی عمل کو نقصان پہنچانے کاحربہ ہے۔

ووٹرز ٹرن آؤٹ کو لے کر رینجرز پہ الزام لگایا گیا کہ وہ جان بوجھ کرپولنگ کے عمل میں دیر کررہے ہیں تاکہ متحدہ کو کم ووٹ پڑیں۔2013 سمیت ہر عام انتخاب میں ووٹنگ کا عمل شروعات میں سست روی کا شکار ہوتا رہا ہے ، یہ بالکل ایک عام سی بات ہے۔ اور جب سوال ہو الزامات کی بوچھاڑ اور غیر معمولی حالات و واقعات میں ہونے والے ایک ضمنی الیکشن کا جس میں شفافیت کو قائم رکھنا پہلی ترجیح ہو تو ظاہر ہے کہیں نہ کہیں پولنگ کا عمل سست روی کا شکار تو ہوگا ہی۔ رینجرز پر جانبداری کے الزام لگانا افسوس ناک ہے۔ اگر یہ جانبدار ہوتے تو محض پولنگ بوتھ کے اندر اور باہر ڈیوٹی لگوانے کے علاوہ اور کوئی ایسا کام نہ کیا جاتا جس سے شفافیت قائم رہتی مثلاً سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب ۔ رینجرز سے کون نپٹ سکتا تھا اگر وہ چاہتے کہ الیکشن کو رگ کیا جائے اور سی سی ٹی وی کیمروں کی عدم موجودگی میں متحدہ کی مخالف جماعتوں کو جعلی ووٹ ڈالے جائیں۔ یہ رینجرز تھی جس نے بائیومیٹرک طرز پولنگ کی سفارش کی تھی تاکہ دھاندلی کا کو ئی امکان ہی باقی نہ رہے۔

یہ بھی اعتراض کیا گیا کہ پورے پاکستان کو چھوڑ کر آخر حلقہ NA 246 ہی کیوں چنا گیا جہاں اداروں پر شفافیت قائم رکھنے کا بھوت سوار ہے۔

انتخابی نتیجے پہ اگر نظر ڈالی جائے تو متحدہ کی جیت کا تناسب تقریباً وہی رہا جو2013 کے الیکشن میں رہا، یعنی پی ٹی آئی کے ہر ایک ووٹ پہ متحدہ کو ساڑھے چار ووٹ پڑے۔

یعنی کہ نہ پی ٹی آئی نے اور نہ متحدہ نے اپنی سیاسی قوت کھوئی اور نہ اس میں اضافہ ہوا۔

پی ٹی آئی کی اگر بات کی جائے تو ان کے پاس کھونے کے لیئے کچھ خاص تھا بھی نہیں۔۔۔لیکن اس کے برعکس انہوں نے جو حاصل کیا وہ ہے خود اعتمادی۔ متحدہ کے گڑھ میں جا کرالیکشن میں چیلنج کرنا اور پھر پچھلے دو سالوں میں اس حلقے میں بغیر کسی سیاسی سرگرمی کے اپنا ووٹ بینک سلامت رکھناایک طرح کی کامیابی ہی ہے۔محض ان کے چیلنج اور خوداعتمادی کا یہ اثر ہوا کہ متحدہ کو پہلی بار کارنر میٹنگز کے لیئے حلقے میں نکلنا پڑا۔ یہ خود اعتمادی اور اپنا ووٹ برقرار رکھنے کی صلاحیت مستقبل میں ہونے والے انتخابی عمل میں کافی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

اگرمتحدہ نے NA 246 کی سیٹ سے کچھ حاصل کیا ہے تو وہ ہے کلین چٹ اس بات کی کہ عزیزآ باد کا یہ حلقہ بغیر کسی شک و شبہ کے متحدہ کا گڑھ اور اسکا ہوم گراؤنڈ ہے۔ لیکن اس کے بدلے میں کچھ کھویا بھی ہے۔ مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ کا سفر اسے ایک قومی جماعت بنانے جارہا تھا۔ NA 246 میں دیئے گئے چیلنج نے متحدہ کی خوداعتمادی کوضرب اس طرح لگوائی کہ اسے مہاجرکارڈ کھیلنا پڑ گیا۔۔۔اگر یہ کارڈ نہ لگایا جاتا تو بھی یہ سیٹ متحدہ کی ہی تھی اور شاید جیت کے مارجن میں بھی کوئی زیادہ فرق نہ آتا۔

اس سارے سیاسی اکھاڑے میں حیرت انگیز طور پرایک جماعت ایسی بھی ہے جس نے اس انتخابی عمل میں حصہ تو نہیں لیا لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ حاصل کر ہی گئی۔۔۔وہ جماعت ہے ن لیگ ۔ حلقہ NA 246 میں اب تک یہی تاثر تھا کہ یہاں انتخابات ڈر خوف اور دھاندلی کی بنیاد پر جیتے جاتے ہیں۔ موجودہ الیکشن میں تمام تر شفافیت کے باوجود جب نتیجہ وہی نکلا جو پہلے نکلتا آیا ہے تو اس سے ایک پیغام یہ بھی عام کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ، ان حلقوں میں جن کے بارے انتخابی دھاندلی ایک کھلا راز ہے، جب وہاں بھی دوبارہ انتہائی شفاف الیکشن ہونے پر نتیجہ پہلے جیسا رہا اور دھاندلی کے الزامات دھل گئے تو ملک کے دیگر سیاسی حلقوں میں دھاندلی کیسے ہوئی ہوگی، یہ محض مفروضے ہیں اور چھوٹی موٹی بے ظابطگی کو سیاسی حریف محض اپنے مفاد کی خاطر بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ 

اب چونکہ اس حلقے کا نتیجہ آچکا ہے اور متحدہ ایک شفاف انتخابی عمل سے گذر کر کامیاب ہوئی ہے لہٰذا یہ ان کے لیئے واقعی ایک کامیابی ہے۔ اب کوئی مخالف کم از کم اس حلقے کے لیئے متحدہ پہ انگلی نہیں اٹھا سکتا کہ یہ ان کا گڑھ نہیں ہے یا یہاں متحدہ کسی غیر جمہوری طریقے سے قابض ہے۔ 

Atom song film ki kam yaabi ki zamanat آئٹم سانگ فلم کی کامیابی کی ضمانت ؟


            .......جویریہ صدیق.......


ایک زمانہ ہوتا تھا جب فلم ساز بڑے بڑے ادیبوں سے فلم کا اسکرپٹ لکھواتے تھے اور حب بات آتی تھی فلم میں موسیقی اور شاعری کی تو نامور شاعر وہ بول لکھتے تھے کہ گیت آج بھی زندہ ہیں۔آہستہ آہستہ فلم آرٹ کمرشلزم کی بھینٹ چڑھ گیا اور اب بیشتر فلموں میں نہ ہی اسکرپٹ جاندار ہوتا ہے اور نہ ہی گانوں کی شاعری مسحورکن۔پاکستان میں تو ویسے بھی فلم انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہے،اس کے پیچھے ان ہدایت کاروں اور فنکاروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے جو مرحوم سلطان راہی کے انداز کو کوئی دو سو تین سو فلموں میں کاپی کرگئے۔ جس زمانے میں جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ فلمیں بن رہی ہوں وہاں کون گنڈاسے والی فلم دیکھنے آئے گا۔ ایک ہی جیسے موضوعات سلطان راہی جیسا ہیرو اس کے پچھے نچاتی گاتی ہیروئین تھوڑے غنڈے، ایکشن اور آخر میں ہیرو ہیروئین کی شادی کون ایسی فلم دیکھنے آتا ہے۔

پاکستانی فلم بینوں کی بڑی تعداد بھارتی فلمیں دیکھنے پر مجبور ہے۔ ہندی مووی بگ بجٹ کے ساتھ دنیا کی حسین ترین لوکشنز پر شوٹ کی جاتی ہیں، جاندار موسیقی بڑے بڑے فلمی نام شائقین کو فلم دیکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بھارت اپنی فلموں سے دنیا بھر میں اپنی ثقافت سے کو اجاگر کر رہاہے۔ پاکستانی سینما مالکان بھی ہندی فلموں کو ہی چلانے پر مجبور ہیں کیونکہ پاکستان میں فلمیں بہت کم تعداد میں بن رہی ہیں ۔سال میں صرف ایک دو ہی ایسی فلمیں آتی ہیں جو پاکستانیوں کو سنیما کی طرف جانے کی مجبورکرتی ہیں۔نوجوان ہدایت کار اور بہت سے اداکار اب فلم انڈسٹری کو سہارا دے رہے ہیں۔شائقین کو سال میں تین، چار اچھی پاکستانی فلمیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔

لیکن نئے ہدایت کار بھی ہندی فلموں سے بہت متاثر نظر آرہے ہیں اور ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ کوئی نہ کوئی آئٹم سانگ ڈال کر فلم میں مصالحہ ڈالا جائے۔ اچھی فلموں سے ضرور متاثر ہو لیکن ہو بہو بھارت کا کلچر اپنی فلموں میں دیکھنا کہاں کا انصاف ہے۔پہلے پاکستانی فلم ساز بارش میں گانا عکس بند کرواتے تھے جس میں ایک فربہ وزن ہیروئین تنگ کپڑے پہنے گانے کے آخر تک کود کود کر اپنا برا حال کرلیتی تھی۔ پر نیے ہدایت کار وہ بارش والا گانا تو نہیں لیکن ایک بار یا کلب میں بالکل ہندی فلم جیسا آئٹم سانگ ضرور ڈالتے ہیں۔جس میں ایک حسینہ چست لباس میں رقص کررہی ہوتی ہے اور بہت سے اس کے دیوانے ولایتی مشروبات لیے اس کو سراہ رہے ہوتے ہیں۔ بھارت میں تو شاید بار کلچر ہو کلبز بھی ہوں گے لیکن پاکستان میں تو ایسا کہیں بھی دیکھنے کونہیں ملتا۔پھر فلم ساز اس کو پاکستان کا کلچر بنا کر کیسے دیکھا سکتے ہیں۔ اگر بھارت کا ہی کلچر دیکھنا ہے تو ہم ان کی فلم میں دیکھ لیں ٹکٹ خرید کر اگر ہم سینما میں پاکستانی فلم دیکھنے جاتے ہیں تو فلم بینوں کا اتنا تو حق ہے کہ انہیں صاف ستھری تفریح ملے۔

بھارت کی فلموں میں آئٹم سونگ کا رواج 2010ءسے بڑھا منی بدنام ہوئی،شیلا کی جوانی، چکنی چمبیلی، بے بی ڈول میں سونے کی، ہلکٹ جوانی، ببلی ہے پیسے والوں کی وغیرہ جیسے گانے تقریباً ہر فلم کا حصہ ہیں۔ جس کی شاعری واہیات ہے۔ان گانوں کی عکس بندی میں بھی اداکارہ کو ایسے ایسے زاویوں سے دکھایا جاتا ہے کہ وہ خواتین اور رقص کی توہین ہے۔ اس طرح کے گانوں میں ہر طرح کی اداکارائیں کام کررہی ہیں جبکہ یہ انہیں سوچنا چاہیے کہ لوگ انہیں ان کی اداکاری پر سراہ سکتے ہیں، بلاوجہ ایکپسوز کرنا قطعی مناسب نہیں۔ کوئی غیر معروف اداکارہ صف اول کی ہیروئین بننے کے لیے آئٹم سانگ کرے تو سمجھ بھی آتا ہے کہ وہ شہرت کی سیڑھیاں چڑھنے کی جلد خواہش مند ہے لیکن جب کترینہ کیف، کرینہ کپور اور پریانکا چوپڑا جیسی صف اوّل کی اداکارائیں آئٹم گرل بن کر آئیں تو یہ ان کی بہترین اداکارنہ کی صلاحیتوں کی توہین ہے۔

خود بھارت میں بہت سی سماجی تنظیمیں ان گانوں پر پابندی کا مطالبہ کررہی ہیں کہ یہ گانے خواتین کی توہین ہیں اور خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں،عام فلم بین کو محسوس ہوتا ہے کہ ہر لڑکی ہی شاید آئٹم گرل جیسی ہے۔ایسا بالکل نہیں ہے، گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین آئٹم گرل نہیں ہیں، وہ بھی پروفیشنل ہیں جو اپنے گھر کے چولھے میں ایندھن ڈالنے کے لیے گھر سے باہر نکلتی ہیں۔ ان گانوں نے عام فلم بین کے دماغ کو آلودہ کردیا ہے۔اب یہ ہی سلسلہ پاکستان کا رخ کر رہا ہے۔فلم میکنگ میں اعلیٰ ڈگری یافتہ ہدایت کار نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی آئٹم سانگ کو فلم کی کامیابی کا لازمی حصہ سمجھ رہے ہیں۔

میں ہوں شاہد آفریدی فلم نے پاکستان بھر میں بہت اچھا بزنس کیا لیکن اس فلم کے گانے بس تیری ہی کمی ہے میں متھیرا اور ماہ نور بلوچ کے آئٹم سانگ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ شاہد آفریدی بھی کہہ اٹھے بزرگ فنکارہ کا گانا فلم میں غیر ضروری ہے۔ بزرگ وہ ما نور کو کہہ رہے تھے لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ ماہ نور جیسی سینئر اداکارہ کیسے آئٹم سنگ کے لیے مان گئی۔اس ہی سال وار مووی بھی ریلیز ہوئی جس میں کوئی آئٹم سانگ نہیں تھا، فلم کی مضبوط کہانی اور اداکاروں کی بہترین پرفارمنس کے باعث اس فلم نے 23کروڑ کا بزنس کیا۔اسی طرح صباء قمر جیسی سینئر اداکارہ بھی مستانی بنی نظر آئیں جو فلم ۸۹۶۸ میں ان پر فلمایا گیا، نہ ہی اس گانے کے بول سننے کے قابل ہیں اور رقص بھی ویسا ہی ہے جیسے کسی بھی آئٹم سانگ میں ہوتا ہے۔صباء قمر جیسی منجھی ہوئی اداکارہ بالکل بھی آئٹم گرل کے لیے موزوں نہیں۔

اس کے بعد مہوش حیات پاکستان کا ایک خوبصورت چہرہ بلی بنے نظر آئی۔نا معلوم افراد فلم میں یہ کہاں کا کلچر دیکھایا گیا ہے جہاں ایک خاتون ایک مجمع میں نچاتی ہے اور کہتی ہے میں ہوں بلی۔اسی سال فلم دختر بھی ریلز ہوئی جس میں بچوں کی شادیوں جیسا حساس موضوع اٹھایا گیا اس میں تو کوئی آئٹم سانگ نہیں تھا پھر بھی فلم نے اچھا بزنس کیا۔ بات ہو اگر جلیبی فلم کی جو اس سال ریلیز ہوئی اس میں ژالے سرحدی آئٹم سانگ میں نظر آئیں۔ شوخ جوانی گانے پر رقص کرتی ژالے کو بھی سب دیکھ کر حیران تھے کہ پاکستانی فلمیں کہاں جارہی ہیں۔ اب ایک اور فلم آرہی ہے کراچی سے لاہور اس کے سب پہلے ٹریلر میں عائشہ عمر جو کہ پاکستان کا پسندیدہ ترین چہرہ ہیں کو چولی اور لہنگے میں دکھایا گیا ہے، ٹریلر صرف ان کی کمر سے شروع ہوکر ان کمر پر ختم ہوجاتا ہے، کیا ہدایت کار کو اپنی صلاحیتوں پر یقین نہیں، کیا وہ یہ سمجھتا ہے سنجیدہ فلم شائقین صرف کمر کو دیکھ کر فلم دیکھنے آئیں گے۔ جب اس فلم کا دوسرا ٹریلر ریلز ہوا تو پتہ چلا کہ اسٹوری بہت اچھی ہے لیکن خاتون کو شو پیس بنا کر پیش کرنا سمجھ سے باہر ہے۔عائشہ عمر نے اداکاری بھی اچھی کی ہوگی ہم وہ دیکھنے کے لیے بھی سینما آسکتے ہیں۔کیونکہ سنجیدہ شایق پاکستان کی فلم انڈسٹری کا عروج چاہتے ہیں۔

پہلے ہی اداکارہ صائمہ، نرگس اور دیدار کے بارش والے گانے ہمارے انڈسٹری کو بہت نقصان پہنچا چکے ہیں۔کیا اب نئے فلم ساز بھی اسی ڈگر پر چلیں گے جس پر چل کر 1990ءکے اوائل سے لے کر 2005ءتک پاکتسان کی فلم انڈسٹری کو تباہ کردیا۔پاکستان کا کلچر بھارت سے مختلف ہے۔ بھارت میں ہوں گی بار ڈانسرز یا آئٹم گرل لیکن پاکستانی معاشرے میں یہ چیزیں عام نہیں ہیں۔ پاکستان کی اداکاراؤں کو چاہیے وہ اداکاری کے میدان میں اپنے جوہر دکھائیں، آئٹم سانگ سے انکار کریں،آئٹم سانگ کی شاعری اس کا رقص عورت کی تذلیل ہے۔ میں خواتین کے فلموں میں کام کرنے یا رقص کرنے کے خلاف نہیں لیکن اداکارائیں کم ازکم گانے کی شاعری تو سنیں اس کے بعد فیصلہ کریں کہ کیا انہیں اس گانے پر رقص کرنا چاہیے۔جن گانوں کا میں نے تذکر کیا ہے مستانی،بلی،شوخ جوانی وغیرہ وغیرہ کیا ان کا فلم کی کامیابی میں کوئی کردار تھا یا نہیں۔فلم صرف اس لیے ہٹ جاتی ہے اگر اس کی اسٹوری اچھی ہو، اداکاروں نے کردار کو اچھی طرح نبھایا ہو اور فلم کو خوبصورتی سے عکس بند کیا ہو۔

فلمیں بنائیں ان میں گانے بھی ہوں، اچھے رقص بھی ہوں، ہیرو ہیروئین کی اٹھکیلیاں بھی ہوں، بس اس میں عورت کی تذلیل نہ ہو، آئٹم سانگ عورت کی تذلیل ہے، میں ایسے آرٹ نہیں مانتی جس میں عورت کو کم کپڑوں میں غیر مناسب زوایوں سے دکھایا جائے اور ذومعنی الفاظ والے گانوں پر رقص کرایا جائے۔ عورتوں کو فلموں میں مضبوط کردار ملنے چاہئیں تاکہ وہ بھی اپنے فن کا کھل کر مظاہرہ کریں اور اپنی اداکاری کے جوہر سب کو دکھائیں۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری بہت مشکل سے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہورہی ہے آرٹ کے نام پر عورت کے جسم کو نہ بیچیں۔ پاکستانیوں کو صاف ستھری تفریح کی ضرورت ہے ،آئٹم سانگ کے زہر سے انہیںآلودہ نہ کریں۔

اگر پاکستان کی اب تک سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلموں پر نظر ڈالیں جن میں خدا کے لیے ،بول اور وارمیں کوئی آئٹم سانگ نہیں تھا۔ اس لیے فلم ساز اس بات کو ذہن سے نکال دیں کہ آئٹم سانگ فلم کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ فلم کی کامیابی کے لیے بہترین اسکرپٹ، عمدہ موسیقی، خوبصورت شاعری، جان دار اداکاری اور حسین لوکیشنز کے لوازمات پورے کرنا ضروری ہیں۔ پاکستان کی سینئر اور پسندیدہ اداکاراؤں کو بھی چاہیے کہ چند پیسوں کی خاطر گھٹیا شاعری اور ایکسپوزنگ والے رقص سے پرہیز کریں۔ بھارت تو عورتوں کے خلاف جرائم میں بہت آگے نکل چکا ہے جس کی بڑی وجہ عورت کو عورت کو نمود ونمائش کی چیز کے طور پر پیش کرنا ہے۔ پاکستانیوں کو سوچنا ہوگا کہیں تفریح کے نام پر ہم نوجوان ذہنوں کو آلودہ تو نہیں کررہے۔ سنسر بورڈ اور پیمرا صرف پاکستانی ہی نہیں ان بھارتی آئٹم سانگز پر بھی پابندی لگائے جن کی شاعری یا رقص میں خواتین کی تذلیل نمایاں ہے۔

بغاوت یا اصول پر اصرار Bgawat ya asul par israr by Sayed arif mustfai

                            .....سید عارف مصطفیٰ.....
پاکستان کی سیاسی جماعتیں یوں تو ہر وقت جمہوریت جمہوریت کی مالا جپتی دکھائی دیتی ہیں لیکن خود انکے سربراہان اور انکی جماعت کے اندر کتنی جمہوریت اور اصول پسندی موجود ہے یہ ہماری سیاست کا ایک تاریک باب ہے۔ ایک آدھ کو چھوڑ کر ماشاءاللہ سبھی کا حال ایک سا ہی ہے، تبدیلی کے پرچارک اور اصولوں کی ہمہ وقت گردان کرنے والی پی ٹی آئی میں بھی حال ہی میں ایسا ہی کچھ دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ پارٹی کے چیئرمین عمران خان نے آمرانہ طور پہ اس ٹریبونل ہی کو فارغ کرڈالا ہے کہ جو انکی پارٹی کے اندرونی ملک گیر الیکشن میں مبینہ دھاندلیوں و بےقاعدگیوں کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے سابق جج محترم وجیہہ الدین احمد کی سرکردگی میں نے خود انہوں نے اور پارٹی کی مجلس عاملہ نے تشکیل دیا تھا۔
پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما جسٹس وجیہہ الدین احمد صاحب نے اس انٹرا پارٹی الیکشن ٹریبونل کی تحلیل کو تسلیم کرنے سے جو یکسر انکار کردیا ہے تو اسے مختلف لوگ مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں اور اپنی اپنی سمجھ اور ادھوری معلومات کی بنا پہ اسکی الٹی سیدھی تشریحات کرتے پھر رہے ہیں،، چند لوگوں کی دانست میں یہ کھلی بغاوت ہے اور یہ غلط طور پر کی گئی ،،، چند دوسری سوچ رکھنے والے اس بغاوت کے حق کو تو تسلیم کرتے ہیں لیکن اسکی ٹائمنگ کو نامناسب ٹھہراتے ہیں ،،، لیکن یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ محترم وجیہہ الدین احمد ٹریبونل کے سربراہ کی پوزیشن کی نزاکتوں کی وجہ سے خود کھل کر کوئی بھی وضاحت کرنے سے معذور ہیں اور حسب روایت نہایت تدبر و تحمل کو اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں ۔۔۔ لیکن چند باخبر لوگ جو خاصی حد تک متعلقہ حقائق سے واقف ہیں تو انکا نکتہ نظر بالکل مختلف ہے ۔۔۔ عین مناسب ہے کہ میں قارئین کیلئے یہاں اسکے چیدہ چیدہ نکات پیش کردوں۔
اس نکتہ نظر کے مطابق جسٹس صاحب کی طرف سے ٹریبونل کی تحلیل کے عمرانی فیصلے کو تسلیم نہ کرنا کسی طور کھلی بغاوت نہیں بلکہ یہ انکا اصولوں پہ کھڑے رہنے کا برملا اعلان ہے اور یہ بات سبھی کے علم میں ہے کہ جسٹس صاحب اصولوں پہ کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے،، اگر وہ ایسا کرسکتے تو پرویز مشرف کے عبوری آئین پہ حلف لینےسے اصولی انکار ہی کیوں کرتے ۔۔۔ پھر یہ بھی نہایت اصولی و قانونی بات ہے کہ جس طرح انتظامیہ یعنی حکومت ججوں کا تقرر تو کرسکتی ہے لیکن انہیں برخواست نہیں کرسکتی اسی طرح کوئی تحقیقاتی ٹریبونل یا کمیشن اپنے کام کی تکمیل سے پہلےختم نہیں کیا جاسکتا اور کسی کمیشن یا ٹریبونل نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے یا نہیں اسکا تعین بھی خود وہ ٹریبونل یا کمیشن خود ہی کرسکتا ہے ،،،کوئی دوسرا ایسا کرنے کا مجاذ ہرگز ہرگز نہیں۔
یہ لافانی کلیہ ہے کہ کوئی مخلوق اپنے خالق کو ختم نہیں کرسکتی،،، پارٹی کی مجلس عاملہ سے حاصل اختیارات کی رو سے یہ ٹریبونل پارٹی کے ہر قسم کے عہدے ختم کرسکنے کا مجاذ قرار دیا گیا تھا اور ان اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ٹریبونل نے پہلے پارٹی کے ونگز کے سوا ہر قسم کے تمام عہدے ختم کرنے کا اقدام کیا تھا، پھر واحد عہدیدار یعنی عمران خان کو بطور پارٹی چیئرمین برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا، یوں اب عمران خان کا منصب ٹریبونل کے فیصلے کی تخلیق ہے اور وہ اب اسی کے سبب پارٹی کے چیئرمین ہیں، یوں جسٹس وجیہ الدین والا ٹریبونل انکے عہدے کا خالق بن چکا ہے اورپارٹی چیئرمین اپنے منصب کے خالق کو ختم کرڈالنے کے مجاذ ہی نہیں ہیں ،،، ٹریبونل نے خان کو پارٹی چیئرمین کے عہدے پہ برقرار محض اسلئے رکھا تھا کیونکہ ٹریبونل کے فیصلوں کو نافذ کرنے کیلئے کوئی اتھارٹی موجود رکھی جانی بھی ناگزیر تھی۔
وجیہہ الدین ٹریبونل نے چارج سنبھالتے ہی اپنے سامنے آنے والی 76 انتخابی پٹیشنوں کی باری باری سماعت کی اورانہیں نپٹادیا اور پھر اپنی تحقیقات کی روشنی میں 17 اکتوبر 2014 کو جو فیصلہ دیا تھا اسکی رو سےچیئرمین کے سوا پارٹی کے تمام انتخابی عہدے ختم کرکے 18 مارچ 2015 تک نئے انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا حکم دیا گیا تھا یوں مستند ووٹرلسٹوں کی تیاری اور دیگر انتخابی تیاریوں کے لیئے 5 ماہ کا لمبا وقت دیا تھا، اس سے قبل تسنیم نورانی کے تحقیقاتی کمیشن نے بھی ایسی ہی سفارشات مرتب کی تھیں لیکن اسکے مینڈیٹ میں 2013 کے جنرل الیکشن میں ہونے والی پارٹی کی اندرونی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرنا بھی شامل تھی،، جن پہ عمل کرنے کا تکلف ہی نہیں کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جسٹس وجیہہ الدین کے فیصلے کی روشنی میں بطور پارٹی چیئرمین عمران خان نے ایڈہاک عہدیدار مقرر کئے تھے اور نیا الیکشن کمیشن بھی مقرر کردیا تھا اور آزادی کنٹینر پہ جاکرمیڈیا کے سامنے اپنی لائیو تقریر میں تمام عہدیداروں کی سبکدوشی، ایڈہاک عہدیداروں کے تقرر اور 18 مارچ تک اندرون پارٹی نئے انتخابات کرانے کا واشگاف اعلان بھی کیا تھا، یوں اس سارے پروسیس کو تسلیم کرنے اور تعمیل کرنے کا برملا عہد کیا جسکے دستاویزی و ویڈیو ثبوت موجود ہیں اسلئے اس پروسیس کی تکمیل کے وہ مکمل پابند ہیں۔ 
مذکورہ ٹریبونل کی جانب سے دیا گیا 5 ماہ کا وقت یونہی بےعملی میں گزار دیا گیا تو ایک بار پھر محترم جسٹس صاحب نے چیئرمین کو مزید 90 روز کی مہلت دی کہ وہ اس سارے عرصے میں انتخابی پروسیس کو مکمل کرلیں اور اسی مدت میں پارٹی انتخابات کا کام پایہ تکمیل کو پہنچائیں تاہم اس بار چیک اینڈ بیلنس کے تحت ان انتخابات کیلئے پہلے اہم مرحلے یعنی حتمی ووٹر لسٹوں کی تیاری کے کام کو مکمل کرنے کیلئے ایک ماہ کا وقت دیا گیا ،،، یہ مہینہ 18 اپریل کو جب مکمل ہوا اور ووٹر لسٹوں کی تیاری کا کام پھر بھی بھی نہیں ہوسکا تو بالآخر جسٹس صاحب نے اپنے منصبی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے 21 اپریل کو چیئرمین عمران خان کو اپنے روبرو طلب کرلیا ،،، لیکن یہ طلبی شاید عمران خان کو اپنی توہین محسوس ہوئی اور وہ ٹریبونل کے سامنے پیش نہیں ہوئے اور پھر قطعی آمرانہ انداز میں 3 دن بعد 24 اپریل کو انہوں نے اس ٹریبونل ہی کو تحلیل کرنے کا متکبرانہ و غیرقانونی نوٹیفکیشن جاری فرمادیا۔
اوپر بیان کردہ حقائق کے اس مختصر سے خاکے سے یہ افسوسناک حقیقت بخوبی جھلک رہی ہے کہ تحریک انصاف میں اب انصاف کے تصور کو ہی اجنبی بنادیا گیا ہے اور پارٹی سے منسلک وکلاء اور قانون دان بھی اس اقدام پہ انتہائی چیں بہ جبیں ہیں اور خان کے اس غیرقانونی نوٹیفکیشن پہ سخت تنقید کررہے ہیں۔
لیکن چند دیگر حقائق ایسے بھی ہیں کہ جواس اقدام کی اصل وجہ سمجھنے میں بڑی مدد دیتے ہیں،،، بہت لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ عمران خان کو چند مفاد پرست اور انویسٹر ٹائپ کے دولتمند سیاستدانوں نے اپنے چنگل میں جکڑ رکھا ہے اور وہ شفاف پارٹی انتخابات کی تاب نہیں لاسکتے۔ ان میں مشرف کے دور کی کابینہ کے ایک اہم رکن نمایاں ہیں جواپنے جہاز میں پارٹی چیئرمین کو ہر جگہ اڑائے پھرتے ہیں اور ایک طرح سے اپنے جہاز میں انہوں نے پارٹی کو اسکے اصولوں اور چیئرمین سمیت ہائی جیک کرلیا ہے۔ ان جیسے اصحاب نے ہی پارٹی کے پرانے عہدیداروں کی بحالی کا وہ متنازع حکم نامہ بھی جاری کروایا ہے کہ جسکے مطابق اب یہی بدعنوانی کی دیمک کے کھائے ہوئے لوگ جو کارکنان کے ٹھکرائے ہوئے ہیں، ان ہی کو نئے انٹر پارٹی الیکشن کی ذمہ داریاں بھی سونپ دی گئیں ہیں، اس سے ان انتخابات کی شفافیت کا ابھی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور یوں پی ٹی آئی اب کس منہ سے 2013 کے جنرل الیکشن میں عدم شفافیت کے اپنے دعوے کی لاج رکھ پائے گی۔
چونکہ پارٹی چیئرمین کےاس تحلیل والے فیصلے کی حیثیت قطعی غیرقانونی ہے لہٰذا پارٹی کے آئین و قانون کی تمام نزاکتوں اور پیچیدگیوں کو جاننے اور سمجھنے والے جسٹس وجیہ الدین احمد صاحب اس غلط حکمنامے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے ٹریبونل کی تحقیقت کا کام پہلے کی طرح پوری مستعدی سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہنوز متعدد حلقوں سے بے ضابطگیوں کی شکایت کرنے والے انکے سامنے پیش بھی ہورہے ہیں۔
آخر میں یہ عرض کرتا چلوں کہ وہ جو ازراہ مذاق کہا جاتا ہے نا کہ عزت تو اللہ دیتا ہے لیکن ذلت کا انتظام بندہ خود کرتا ہے تو لگتا ہے کہ اب عمران خان شاید اس ہی روش پہ چل نکلے ہیں،، بہتر ہے کہ وہ اس رستے پہ اپنےتیزی سے بڑھتے قدم روک لیں کیونکہ وہ ملک میں مثبت تبدیلیوں کے داعی ہیں اور جس انصاف کا علم لے کر نکلے ہیں تو اگر اس میں سے انصاف والا جھنڈا ہی نکل گیا تو انکے پاس رہ کیا جائے گا،،،فقط ڈنڈا،،، اور ڈنڈا تو صرف بےانصافی کی علامت ہے نا،، اسکا انصاف کے نام لیواؤں کے پاس کیا کام۔ 

Popular Novels